السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! حضرت ایک مسئلہ ہے کہ جہاں پر میں امامت کرتا ہوں، وہاں پر ایک مقتدی ہے جو اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ میں نیت باندھ کر نماز کے اندر مکہ اور مدینہ دیکھ لیتا ہوں، اور کہتا ہے کہ میں پُل صراط کا راستہ بھی دیکھ لیتا ہوں، جو لوگ کٹ کٹ کر گر رہے ہیں انھیں بھی دیکھتا ہوں اور میں بجلی کی طرح گزر گیا ہو، اس طرح وہ کہتا ہے ،کیا اس طرح آدمی کسی کو نماز کے اندر دیکھ سکتا ہے یا نہیں؟ اور اس طرح کے دعویٰ کرنا کہاں تک درست ہے ؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں مکمل و مدلل جواب عنایت فرمائیں۔
نماز پڑھتے وقت اگرچہ مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ یا پُلِ صراط وغیرہ کے خیالات اور تصورات نمازی کے ذہن میں آسکتے ہیں، لیکن ان خیالات کو واقع کی طرح بیان کرنا، تاکہ لوگ اس کو بزرگ سمجھ لیں، قطعاً مناسب نہیں، لہٰذا مذکور شخص کو چاہیے کہ لوگوں کے سامنے اس نوعیت کی باتیں بیان کر کے اپنی بزرگی اور ولایت کا اظہار کرنے کے بجائے خشوع وخضوع کے ساتھ نمازوں کی ادائیگی کا اہتمام کریں، تاکہ اللہ ب العزت کے ساتھ حقیقی تعلق نصیب ہو جائے۔
ففی صحيح مسلم: عن محمد بن عمرو بن عطاء، قال: سميت ابنتي برة، فقالت لي زينب بنت أبي سلمة: «إن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن هذا الاسم، وسميت برة»، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا تزكوا أنفسكم، الله أعلم بأهل البر منكم» اھ(3/ 1687)