کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک گھر میں میت ہوئی اور مہمانوں کا سلسلہ شروع ہوا ، بعض مہمان دور دراز کے علاقوں سے آئے اور بعض مہمان قرب و جوار کے رہنے والے تھے ،تو میت کےگھر والوں نے دوسرے ہی روز گھر پر فاتحہ خوانی کا اہتما م کیا اور مہمانوں کو کھانا کھلا کر رخصت کردیا ۔
سوال یہ ہے کہ میت کے گھر سے کھانا کھلانا تین کے اندر جائز ہے یا نہیں؟ کھلانے والا خواہ بھائی ہو یا بیٹا ، وراثت تقسیم ہوئی یا نہیں،کیونکہ ہمارے علاقے کے بعض لوگوں نے اس کو ناجائز کہا ہے کہ میت کے گھر سے تین دن تک کھانا کھلانا جائز نہیں ،تین دن تک اس گھر میں آگ جلانا جائز نہیں ہے ، مفصل اور مدلل جواب دیں ۔
اہلِ میت کی طرف سے تین دن سے قبل لوگوں کی دعوت کرنا مکروہ ہے ، البتہ اپنی ضرورت کیلۓ چولہا جلاسکتے ہیں، اس طرح دور آئے ہوئے مہمانوں کو کھانا کھلانا ، جبکہ ان کو کھا نا کھلانے کی کوئی دوسری صورت نہ ہو تو یہ بھی جائز ہے ،ہاں! میت کے ترکہ سے لوگوں کوکھانا کھلانا جبکہ وارثوں میں سے بعض موجود نہ ہوں یا راضی نہ ہوں یا نابالغ ہوں تو جائز نہیں ہے، اس سے احتراز لازم ہے ۔
في سنن ابن ماجه : حدثنا هشام بن عمار و محمد بن الصباح . قالا حدثنا سفيان بن عيينة عن جعفر بن خالد عن أبيه عن عبد الله بن جعفر قال : لما جاء نعي جعفر قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ((اصنعوا لآل جعفر طعاما . فقد أتاهم ما يشغلهم أو أمر يشغلهم))اھ(1/ 514)۔
و فی الھندية : و لا بأس بأن يتخذ لأهل الميت طعام كذا في التبيين و لا يباح اتخاذ الضيافة عند ثلاثة أيام كذا في التتارخانية اھ(1/167)۔
و فی الشامية : و قال أيضا : و يكره اتخاذ الضيافة من الطعام من أهل الميت لأنه شرع في السرور لا في الشرور، و هي بدعة مستقبحة :(الي قوله)و لا سيما إذا كان في الورثة صغار أو غائب ، مع قطع النظر عما يحصل عند ذلك غالبا من المنكرات الكثيرة اھ(2/241)۔