میں چند سالوں سے اپنی بھنویں اکھاڑتا ہوں، ابھی رک گیا ہوں، کیونکہ اس میں کچھ فاصلہ ہے اور باہر جانے سے پہلے اس کو رنگ لگاتا ہوں، مگر یہ کام زیادہ تھکا دینے والا ہے کیا میں کوئی ایسا رنگ استعمال کر سکتا ہوں جو دور نہ ہو۔
واضح ہو کہ مردوں کو اپنی بھنویں اس قدر چھوٹی کرنا جس سے ہجھڑوں کے ساتھ مشابہت ہو جائے جائز نہیں، البتہ جو بال بڑے ہو کر برے محسوس ہوتے ہوں ان کو برابر کرنا جائز اور درست ہے، لہٰذا سائل کو بھی مبالغہ کیے بغیر بھنوؤں کو بنانا درست ہے، اسی طرح پکا کلر کرنا بھی جائز ہے بشرطیکہ اس کلر کی کوئی تہہ نہ جمتی ہو۔
ففی حاشية ابن عابدين: (قوله والنامصة إلخ) (إلی قوله) وفي التتارخانية عن المضمرات: ولا بأس بأخذ الحاجبين وشعر وجهه ما لم يشبه المخنث اهـ(6/ 373)
وفی شرح النووي على مسلم: (باب استحباب خضاب الشيب بصفرۃ أو حمرة وتحريمه بالسواد) قوله (أتى بأبي قحافة رضي الله عنه يوم فتح مكة ورأسه ولحيته كالثغامة بياضا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم غيروا هذا بشيء واجتنبوا السواد)(إلی قوله) فمن كان شيبته تكون نقية أحسن منها مصبوغة فالترك أولى ومن كانت شيبته تستبشع فالصبغ أولى هذا مانقله القاضي (14/ 79)
و فی أحکام تجمیل النساء: ومن المسائل المتحدثۃ فی زینۃ المرأۃ المسلمۃ (إلی قولہ) أو تصبغ جزء من شعر حاجبیہا علیٰ ھیئۃ لا تبدوا فیہا زوائد شعر الوجہ أوجزء من الحاجب اھ (ص:۱۸۰)
وفیہ أیضا: ذھب بعض العلماء المعاصرین إلی أن الصبغ بالسواد إن لم یکن للغرور والتدلیس فإن النھی عنہ لیس بذلك النھی الشدید اھ (۱۷۸)
وفی الفتاوى الهندية: وأما الخضاب بالسواد فمن فعل ذلك من الغزاة ليكون أهيب في عين العدو فهو محمود منه، اتفق عليه المشايخ رحمهم الله تعالى ومن فعل ذلك ليزين نفسه للنساء وليحبب نفسه إليهن فذلك مكروه وعليه عامة المشايخ وبعضهم جوز ذلك من غير كراهة اھ(5/ 359)