السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! جناب میں ایک سرکاری محکمے میں ملازم ہوں، میں تبلیغ کے ارادے سے چار ماہ کی رخصت چاہتا ہوں، میں نے رخصت کے لیے درخواست دی تو مجھے یہ کہا گیا کہ اگر آپ درخواست میں یہ لکھ دیں کہ مجھ گھریلو مسائل کی وجہ سے رخصت چاہیے، تو آپ کی درخواست قبول کی جاسکتی ہے، تو کیا درخواست میں ایسا لکھنا جائز ہے؟
سائل کا تبلیغ میں جانے کی رخصت حاصل کرنے کے لیے درخواست میں جھوٹا عذر لکھنا جائز نہیں ، جس سے احتراز لازم ہے، البتہ اگر اس دوران سائل کو کوئی اور عذر بھی درپیش ہو، اور درخواست میں اس کا ذکر کر کے چھٹی منظور کرالے، اور پھر چھٹی کے دوران چار ماہ کے لیے تبلیغ میں چلا جائے تو ایسا کرنا جائز ہوگا۔
کما فی صحیح مسلم: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ مُحَمَّدُ بْنُ حَيَّانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، كِلَاهُمَا عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا، وَمَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا» (1/99 رقم الحدیث 101)۔
و فی مشکاۃ المصابیح: وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا وَمَنْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتَّى يَدَعَهَا إِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ وَإِذَا حَدَّثَ كَذَبَ وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ وَإِذا خَاصم فجر»(1/23 رقم الحدیث 56)۔