بسم اللہ الرحمن الرحیم
BankIslami – شریعت کے مطابق "مسکان ہاؤس فنانسنگ" کی تفصیلی معلومات برائے فتویٰ
محترم مفتی صاحب، حفظہٗ اللہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مندرجہ ذیل معلومات BankIslami کے "مسکان ہاؤس فنانسنگ" پروگرام سے متعلق ہیں۔ گزارش ہے کہ ان کی روشنی میں اس فنانسنگ کی شرعی حیثیت بابت رہنمائی فرمائیں۔
1. ادارے کا دعویٰ
BankIslami کا کہنا ہے کہ وہ کسی قسم کے ربا (سود) کے معاملات میں شامل نہیں ہوتا اور اس کا فنانسنگ ماڈل مکمل طور پر اسلامی فقہِ معاملات کے اصولوں کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے۔
2. اہلیت (Eligibility Criteria)
الف) ملازم (Salaried Person)
کم از کم ماہانہ تنخواہ: 60,000 روپے
گزشتہ 6 ماہ کی تنخواہ کی سلِپس درکار
ادارہ/کمپنی مستند و رجسٹرڈ ہو
ب) کاروباری شخص (Businessman)
کم از کم آمدنی: 100,000 روپے
آمدنی کا قابلِ اعتماد ثبوت لازم ہے
ج) کو-اپلیکنٹ (Co-applicant)
اگر بنیادی درخواست گزار اہلیت پوری نہ کرے تو کو-اپلیکنٹ شامل کیا جا سکتا ہے
اس کی آمدنی:
ملازم ہو تو کم از کم 60,000 روپے
کاروباری ہو تو کم از کم 100,000 روپے
د) عمر کی حد
درخواست گزار: 25 سے 65 سال
کو-اپلیکنٹ: 21 سے 70 سال
3. فنانسنگ کی اقسام (Tiers of Financing)
i) نیا گھر خریدنا
30% خریدار کی طرف سے
70% بینک کی طرف سے فنانسنگ
ii) پلاٹ پر تعمیر
ڈاؤن پیمنٹ 00% تعمیراتی فنانسنگ بینک فراہم کرتا ہے
iii) گھر کی مرمت/رینوویشن
15% خریدار کا حصہ
85% بینک کی فنانسنگ
4. فنانسنگ کی مالی تفصیلات
فنانسنگ کی رقم: 2 لاکھ روپے سے 150 ملین روپے تک
منافع/کرایہ: 4% فکسڈ + 6 ماہ کا KIBOR
مدت (Tenure): 2 سال تا 25 سال
تکافل: گھر کی مالیت کے مطابق، کم از کم 1.85% سے شروع
درخواست برائے رہنمائی
گزارش ہے کہ مذکورہ فنانسنگ ماڈل کی نوعیت، اس میں بینک اور صارف کے درمیان ہونے والے معاہدات، منافع کے طریقۂ کار، اور ادائیگی کے نظام کو سامنے رکھتے ہوئے اس کی شرعی حیثیت واضح فرمائیں۔
اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
والسلام
واضح ہو کہ اسلامی بینکاری میں عموماً مکانات کی فنانسنگ کیلئے شرکت متناقصہ کا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے ، کہ جس میں بینک اور اسکا گاہک مل کر کوئی مکان خریدتے ہیں ،مثلاً قیمت کا اسی فیصد حصہ بینک اور بیس فیصد رقم گاہک دیکر اسی تناسب سے مکان کے مالک بن جاتے ہیں ،اس کے بعد بینک اپنا اسی فیصد حصہ گاہک کو کرایہ پر دیدیتا ہے،اور یہ گاہک وقفے وقفے سے مقررہ کرایہ کی ادائیگی کے ساتھ بینک کی ملکیت والے حصے کو خریدتا رہتا ہے، اور جس نسبت سے اس گاہک کی ملکیت بڑھتی ہے،اسی نسبت سےباقی ماندہ بینک کا حصہ اور اسکا کرایہ کم ہوتا چلا جاتا ہے اور آخر میں جب گاہک بینک کے تمام حصے خرید لیتا ہے تو وہ مکمل طور پر مکان کا مالک بن جاتا ہے، چنانچہ مذکور طریقہ کار میں شرعاً کوئی حرج نہیں ،اس لئے اب اگر بینک اسلامی والے بھی مذکورہ بالا طریقے کے مطابق تمام معاملات سر انجام دیتے ہوں تو انکے "مسکان ہاؤس فنانسنگ" کی پالیسی لینے میں شرعاً کوئی حرج نہ ہوگا۔
كما في المعايير الشرعية: المشاركة المتناقصة عبارة عن شركة يتعهد فيها أحد الشركاء بشراء حصة الآخر تدريجيا إلى أن يتملك المشتري المشروع بكامله. ولا بد أن تكون شركة غير مشترط فيها البيع والشراء، وإنما يتعهد الشريك بذلك بوعد منفصل عن الشركة، وكذلك يقع البيع والشراء بعقد منفصل عن الشركة، ولا يجوز أن يشترط أحد العقدين في الآخر. (الرقم: 12، ج: 1، ص: 345، ط: المكتبة الحقانية)