میں طلاق کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں ،میں نے بیوی کو دو طلاقیں کہی ہیں ،میں شدید تکلیف میں ہوں ،اور ایک ماہ سے ذہنی علاج کروا رہا ہوں ،لیکن میں دواء نہیں لے رہا اسلئے میں زیادہ غصے میں رہتا ہوں ،بتائیں میرے لئے فتوی کیا ہے ؟
واضح ہو کہ اگر سائل نے پورے ہوش وحواس میں اپنے الفاظ کا مفہوم سمجھتے ہوئے بیوی کو صریح الفاظ میں دو طلاقیں دی ہیں تو شدید غصہ ،ذھنی دباؤ ،یا علاج میں کوتاہی کے باوجود دونوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں ،محض غصہ یا نفسیاتی تکلیف جب تک شعور باقی ہو وقوع طلاق میں مانع نہیں ،البتہ سائل کو دوران عدت رجوع کا حق حاصل ہے ،چنانچہ اگر سائل زبانی یا عملی طور پر میاں بیوی والا تعلق قائم کر کے رجوع کر لے تو اس سے سائل کا نکاح برقرار رہے گا،اور آئندہ کیلئے سائل کو فقط ایک طلاق کا اختیار ہوگا ،لہذا آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے ۔
کما فی ردالمحتار: (قوله أو مريضا) أي لم يزل عقله بالمرض بدليل التعليل ط(الی قوله) (قوله لوجود التكليف) علة لهما اھ(3/ 242)
وفی البدائع: فيقع طلاق المريض والكافر لأن المرض والكفر لا ينافيان أهلية الطلاق اھ(4/ 219)