میں ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ فرم میں کام کرتا ہوں، یہاں پر بہت سے کلائنٹس ہیں جن کے اکاؤنٹس میں گڑبڑ کی جاتی ہے، نقصان اٹھانے والی کمپنیوں کو منافع میں ظاہر کیا جاتا ہے، ریگولیٹرز کو دھوکہ دینے کے لیے چیزیں جعلی بنائی جاتی ہیں۔ اب میرا وہاں نوکری کرنا کیا حلال ہے؟ مجھے مجبور کیا جاتا ہے کہ میں کلائنٹس سے جھوٹ بولوں، اور بھی بہت سے غلط کاموں میں میرا ادارہ جیسے ٹیکس چوری اور دوسری چیزیں جن سے بینکوں کو دھوکہ دیا جاتا ہے، کرنے کو کہا جاتا ہے۔ کیا میری نوکری حلال ہے؟
سوال میں ذکر کردہ امور مثلا ریگولیٹرز کو دھوکہ دینے کے لیے جعلی کاغذات بنانا، اکاؤنٹس میں رد بدل کرنا وغیرہ اگر سائل کی ملازمت کا لازمی حصہ ہو، تو سائل کے لئے ان امور میں مذکور فرم کا معاون بننا شرعاً جائز نہیں، بلکہ ایسی ملازمت سے احتراز لازم ہے۔
لہذا سائل پر لازم ہے کہ وہ جلد از جلد دوسری جائز ملازمت کی تلاش و جستجو کر ے اور اس ملازمت کو ترک کرنے کی تگ ودو کرنے کے ساتھ اب تک غیر شرعی امور کے ارتکاب پر بصدق دل توبہ و استغفار اور آئندہ کے لیۓ اس کے ارتکاب سے مکمل اجتناب کرے۔
كما في الدر المختار: (لا تصح الإجارة لعسب التيس) وهو نزوه على الإناث (و) لا (لأجل المعاصي مثل الغناء والنوح والملاهي) (باب الإجارة الفاسدة، ج: 6، ص: 55، ط: ايج ايم سعيد)
وفي بدائع الصنائع: ومنها أن يكون العمل المستأجر له مقدور الاستيفاء من العامل بنفسه ولا يحتاج فيه إلى غيره وخرجت المسائل عليه والأول أقرب إلى الصناعة فافهم. وعلى هذا يخرج الاستئجار على المعاصي أنه لا يصح لأنه استئجار على منفعة غير مقدورة الاستيفاء شرعا كاستئجار الإنسان للعب واللهو، وكاستئجار المغنية، والنائحة للغناء، والنوح. (كتاب الإجارة، فصل في أنواع شرائط ركن الإجارة، ج: 4، ص: 189، ط: ايج ايم سعيد)
وفي المحيط البرهاني: نوع آخر في الاستئجار على المعاصي إذا استأجر الرجل حمالا ليحمل له خمرا، فله الأجر في قول أبي حنيفة، وقال أبو يوسف ومحمد: لا أجر له. فوجه قولهما: أن حمل الخمر معصية؛ لأن الخمر يحمل للشرب والشرب معصية، وقد «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم حامل الخمر والمحمول إليه» ، وذلك يدل على كون الحمل معصية، وأبو حنيفة رحمه الله يقول يحمل للإراقة وللتخليل كما يحمل للشرب، فلم يكن متعينا للمعصية، فيجوز الاستئجار عليه. (كتاب الإجارات، الفصل الخامس عشر في بيان ما يجوز من الإجارات وما لا يجوز، ج: 7، ص: 481، ط: دار الكتب العلمية، بيروت - لبنان )
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0