ایک صاحب کا بایاں حصہ فالج زدہ ہے، جس کی وجہ سے اُن کی طہارت مشکوک ہے، کیا اُن کی اقتداء میں نماز ہو جائےگی؟ اگر ایسے امام موجود ہوں جو صحت مند ہیں تو کیا اُن کی موجودگی میں معذور کو مستقل امام لگانا ٹھیک ہے؟ وضاحت فرمائیں۔
اگرچہ مذکور امام موصوف کی اقتداء میں پڑھی گئی اب تک کی نمازیں بلاشبہ ادا ہو چکی ہیں، انہیں لوٹانے اور دہرانے کی ضرورت نہیں، البتہ جب ان کے جسم کے بائیں حصے کی معذوری ہے تو اس صورت میں کسی ایسے امام کا انتخاب کرنا چاہیے جو صحیح العقیدہ ہونے کے ساتھ ساتھ متقی پرہیزگار، نیک وصالح اور مسائلِ نماز سے بخوبی واقف اور قرأت قرآن کریم پر اچھی دسترس رکھتا ہوں۔
ففی حاشیة الطحطاوی: وتکره الصلاة خلف أمرد وسفه ومفلوج اھ (۱/ ۱۶۶)