بیوی ....... کا بیانِ حلفی یہ ہے کہ آج سے تقریباً سات سال قبل گھر میں لڑائی جھگڑےکے دوران میرے شوہر ...... نے مجھے تین مرتبہ طلاق کے الفاظ بولے ہیں ”تہ پہ ما طلاقہ ئے“۔اس کے بعد ان کی والدہ نے ان کے منہ پر تھپڑ مارا تھا ،خاموش کیا، اس کے بعد میں نےاپنے بھائی کو فون کیا اور بلایا کہ” آکر مجھے لے جاؤ ،ورنہ میں جان دے دوں گی“ تو جب میرے گھر والے آئے تو ان کے سامنے بھی بولا کہ میں نے آزاد کیا ہے، لے جاؤ اس کو “(ماآزادہ کڑے دہ بوزئی یے)
اس کے دو تین دن بعد ہم چھ، سات بندے لڑکی کو لے کر واپس ان کے گھر گئے،تاکہ صلح کر لیں، لڑکی کےوالد نے داماد سے پوچھا کہ تم نے طلاق دی ہے؟ تو شوہر نے انکار کیا تو ان کو کہا کہ تم قرآن پر ہاتھ رکھ کر بیان دوگے کہ تم نے طلاق نہیں دی ہے؟تو لڑکا ہاتھ رکھنے کے لئے تیار تھا، لیکن والدہ نے منع کیا کہ نہیں تم قرآن پر ہاتھ نہیں رکھو گے اور والدہ نے اقرار کیا کہ ”ہاں !اس نے طلاق دی ہے کہ اس نے تین مرتبہ بولا اور تیسری مرتبہ میں نے ان کے منہ پر تھپڑ بھی ماراہے“ لڑکے نے کہا کہ ”لوگوں کا میرے ساتھ اور کچھ باقی نہیں ہے،جاؤ،“ جو افراد اس موقع پر موجود تھے،ان میں لڑکی کا والد (......کئی سارے افراد......) بھی موجود تھا ،یہ لوگ لڑکے کی کہی ہوئی بات کی تصدیق بھی کررہے ہیں۔
صورتِ مسئولہ میں جب لڑکی مسماۃ ......کواس کے شوہر مسمی .......نے اپنی والدہ کی موجودگی میں "تہ پہ ماطلاقہ ئے"کے الفاظ کے ساتھ تین طلاق دیدی ہیں اوربعد میں سوال میں مذکور گواہان کی موجودگی میں اس کی والدہ نے بھی اس طلاق دینے کی تائیدکردی تواس سے مسماۃ......پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ،اب رجوع نہیں ہوسکتا اور بغیر حلالۂ شرعیہ کے دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہوسکتا ، چونکہ طلاق کے بعدسےہی میاں بیوی میں علیحدگی واقع ہوچکی تھی ،اس لئے عورت عدت گزرجانے کی وجہ سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
کمافی احکام القرآن للجصاص: قال أبو بكر: قوله تعالى: ( الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان )الآية، يدل على وقوع الثلاث معا مع كونه منهياعنها(ج1،صـــ386)۔
وفی الدر المختار: (و) نصابها (لغيرها من الحقوق سواء كان) الحق (مالا أو غيره كنكاح وطلاق ...رجلان ...أو رجل وامرأتان)الخ(کتاب القاضی،ج:5،ص:465،ط:سعید)۔
وفی الھندیۃ: إن كان الطلاق ثلاثا في الحرة و ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا و يدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية الخ(فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به،ج:1،ص: 473،ط: ماجدیۃ)۔