ہمارا ایک ادارہ (مدرسہ) ہے اور ہم اپنے مالی معاملات کی سہولت کے لیے UBL Ameen میں ایک اسلامک سیونگ اکاؤنٹ کھولنے کے خواہاں ہیں، ہمارا ارادہ ہے کہ اس اکاؤنٹ میں مدرسے کے چندہ جات، بشمول زکوٰۃ کی رقم، جمع کیے جائیں ،ہماری آپ سے گزارش ہے کہ شریعت کی روشنی میں اس مسئلے کی وضاحت فرمائیں کہ زکوٰۃ کی رقم اس قسم کے اسلامک سیونگ اکاؤنٹ میں جمع کرنا جائز ہے یا نہیں، نیز، اس اکاؤنٹ کے ذریعے جو منافع / پرافٹ حاصل ہوگا، اس کا حکم کیا ہے اور کیا وہ حلال جائز ہوگا؟
مدارس میں دی جانے والی رقم عموماً زکوۃ، عشر، اور دیگر صدقات واجبہ کی ہوتی ہے ، یہ رقومات عموماً طلباء کیلئے وصول کی جاتی ہیں ،اور طلباء اس رقم کے مستحق ہوتے ہیں، لہذاکسی ادارے کے مہتمم یا منتظمین میں سے کسی کے پاس ان رقوم کا جمع ہونا محض امانت کے درجہ میں ہوتا ہے، وہ ان رقومات کا مالک نہیں کہ جیسے چاہے اس میں تصرف کرے، بلکہ وہ ان رقوم کو طلباء کے کھانے پینے،اور دیگر ضروریات کے انتظام میں صرف کر سکتے ہیں،لہذا سائل کے ادارے کیلئے دی جانے والی رقوم کو کاروبار کی غرض سے کسی اسلامی بینک میں رکھوانے کے بجائے طلباء کی ضروریات پر خرچ کرنا لازم ہے۔
البتہ اگر جمع شدہ رقم ضرورت سے زیادہ ہو،اوریو بی ایل امین کےمعاملات مستند مفتیانِ کرام کی نگرانی میں شرعی اصولوں کے مطابق انجام پاتے ہوں،اور سائل کو یو بی ایل امین کے شرعی نگرانی کرنے والے مفتیانِ کرام کی رائے پر اعتماد ہو تو شرعاً سائل کیلئے یو بی ایل امین میں سیونگ اکاونٹ کھلوانے اور اس کے منافع حاصل کرنے کی گنجائش ہے، البتہ منافع کی رقم شرعاً سائل کی ملکیت نہ ہوگی، بلکہ اصل رقم کی طرح منافع بھی طلباء کرام کی ضروریات پر خرچ کرنا لازم ہوگا۔
کما فی التاترخانیۃ: واذا دفع القیم ارض الوقف مزارعۃ سنین معلومۃ فھو جائز اذا کان ذالک انفع واصلح فی حق الفقراء الخ (کتاب الوقف، ج5، ص757، ط:ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیۃ)۔
وفی الشامیۃ: قد علمت أن قیم الوقف وکیل الوقف والوکالۃ أمانۃ الخ (باب الوکالۃ بالخصومۃ والقبض، ج5، ص535، ط:سعید)۔
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0