السلام علیکم ورحمۃ اللہ برکاتہ
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نےاپنی دوسری بیوی کےساتھ گھریلوناچاقی کی وجہ سے یہ شرط رکھی کہ ”اگر تم نے میری غیر موجودگی میں کسی بھی غیر مرد سے دوستی کی توتمہیں تین طلاق ہونگی“لیکن میری منکوحہ نے اپنے پہلے شوہر کو کال کیا تھا ،لیکن اس نے نہیں اٹھایا،بلکہ اس کی بیوی نے اٹھایاتھا،اور اس سے بات چیت ہوئی تھی،تو اس صورت میں اس پر طلاق ہوگی یا نہیں ؟اور یہ کال بھی اپنی بیٹی سے بات کرنے کےلئےکی تھی، بیٹی پہلے شوہر کے پاس ہے۔
واضح ہوکہ طلاق کو اگر کسی شرط کے ساتھ معلق کیا جائے تو اس شرط کے پائے جانے کی صورت میں ہی طلاق واقع ہوتی ہے،اور جب شرط ہی وجود میں نہ آئے تو طلاق بھی واقع نہیں ہوتی ،لہذا صورت مسئولہ میں سائل نے چونکہ تین طلاقوں کو اپنی بیوی کے کسی بھی غیر مرد کے ساتھ دوستی رکھنے پر معلق کیا تھا،جبکہ اس کی بیوی نے نہ کسی غیر مرد سے دوستی کی اور نہ کوئی ناجائز تعلق رکھا،بلکہ صرف اپنی بیٹی سے بات کرنے کی غرض سے سابقہ شوہر کے نمبر پر کال کی، اور وہ کال بھی اس کی بیوی نے ریسیو کی۔اس لئے شوہر کی لگائی ہوئی شرط سرے سے پائی ہی نہیں گئی۔چنانچہ شرطِ طلاق کے عدم ِ تحقق کی بناپر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی اور نکاح بدستور بر قرار ہے ، البتہ طلاق جیسے نازک اور سنگین معاملے میں انتہائی احتیاط سے کام لینا لازم ہے،تاکہ آئندہ کسی غلط فہمی یا غیر محتاط لفظ سے گھریلو زندگی متاثر نہ ہو۔
کما فی الھندیۃ: إذا وجد الشرط انحلت اليمين الخ ( کتاب الطلاق، الباب الرابع في الطلاق بالشرط ، الفصل الأول في ألفاظ الشرط،ج1،ص315،ط: ماجدیۃ)۔
وفی البدائع الصنائع: إذا قال لها أنت طالق إن دخل فلان الدار أنه يقع الطلاق إذا وجد الشرط(الی قولہ)فيقف الوقوع على وقت وجود الشرط ففي أي وقت وجد يقع الخ(کتاب الطلاق،فصل في قوله أنت طالق إن شئت، ج3، ص 122، ط: دار الکتب العلمیۃ)۔
وفی الھندیۃ:أكربخانه فلان روي وباوي سخن كوي(إن ذھبت الی بیت فلان و تکلمت معہ)فأنت كذا فلم يذهب إلى بيته،ولكن كلمه في موضع آخر لا يحنث في يمينه الخ(کتاب الایمان،الباب السادس فی الیمین علی الکلام،ج2،ص105،ط:ماجدیۃ)۔