کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں مسمی ...باہوش وحواس اپنی بیوی کو بد چلنی اور نافرمانی کی وجہ سے تین مرتبہ” طلاق طلاق طلاق دیتا ہوں“ یہ تحریر میں مسمی مذکور نے مؤرخہ 25-09-25کو دی تھی، طلاق دیتے وقت کوئی گواہ وغیرہ بھی نہ تھے، کسی آدمی کے ذریعے اپنی بیوی کو طلاق نامہ پہنچا دیا تھا ،مجھے براہِ کرم بتائیں کہ یہ طلاق ہوئی ہے یا نہیں ؟قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت کریں اور اہل حدیث کے نزدیک ایک طلاق واقع ہوئی ہے اور وہ حضرت رکانہ والا حوالہ دیتے ہیں کیا اس کے ساتھ رجوع ہو سکتا ہے؟
واضح ہو کہ قرآن وسنت کی روشنی میں ایک مجلس کی تین طلاقیں خواہ ایک جملہ سے دی ہوں جیسے تجھے تین طلاق ہیں ، یا الگ جملوں سے دی ہوں جیسے تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے ، تجھے طلاق ہے ان دونوں صورتوں میں سے تین طلاقیں شمار ہوتی ہیں، حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ، تابعین عظام کا اس پر اتفاق ہے اور امت کے چاروں ائمہ امام اعظم ابو حنیفہ،امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ کا بھی یہی مسلک ہے، اس سلسلے میں کسی غیر مقلد کا تین طلاقوں کو ایک قرار دینا قرآن وسنت کے واضح نصوص کے خلاف ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں جب سائل نے اپنی بیوی کو مذکورہ الفاظ ”طلاق، طلاق، طلاق دیتاہوں“ کہہ دیئے تو اس سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،اگرچہ طلاق دیتے وقت کوئی گواہ موجود نہ ہو،اب رجوع نہیں ہوسکتا اور بغیر حلالہ شرعیہ کے دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہوسکتا ،جبکہ سائل کی بیوی ایامِ ِعدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کما قال اللہ تعالیٰ: فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَاتَحِلَّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ (البقرۃ:230)۔
وفی صحیح البخاری: و قال الليث: حدثني نافع، قال : كان ابن عمر، إذا سئل عمن طلق ثلاثا، قال: لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه و سلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك الخ(باب من قال لامرأتہ انت علیّ حرام،ج3،ص2393،ط:بشری)۔
وفی الحکام القرآن للجصاص: فالكتاب والسنة وإجماع السلف توجب إيقاع الثلاث معا وإن كانت معصيةً الخ(ذکر الحجاج لایقاع الطلاق الثلاث معا،ج1،ص388،ط:سہیل اکیڈمی)۔