السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کیا کوئی نا بالغ بچہ جو کہ حافظ قرآن بھی ہے ,کیا وہ فرض نماز یا نماز تراویح کی جماعت کروا سکتا ہے؟ اس بارے میں میری شرعی رہنمائی فرما دیں۔اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
واضح ہو کہ فرض نماز ہو یا تراویح ،اس میں بالغ مقتدیوں کی امامت کے لیے امام کا بالغ ہونا ضروری ہے ، لہذا نا بالغ بچہ اگرچہ حافظ ہو تب بھی بالغ مقتدیوں کے لئے امام نہیں بن سکتا ہے اور اس کی اقتداء میں پڑھی گئی نماز بھی درست ادا نہ ہوگی۔
کما فی الدر المختار: (ولا يصح اقتداء رجل بامرأة) وخنثى (وصبي مطلقا) ولو في جنازة و نفل علی الاصح الخ (باب الامامۃ، ج: 1، ص: 576-577، ط: سعید)۔
و فی رد المحتار: تحت: (قوله ونفل على الأصح) قال في الهداية: وفي التراويح والسنن المطلقة جوزه مشايخ بلخ ولم يجوزه مشايخنا، ومنهم من حقق الخلاف في النفل المطلق بين أبي يوسف ومحمد. والمختار أنه لا يجوز في الصلوات كلها الخ (باب الامامۃ، ج: 1، ص: 578، ط: سعید)۔