میری بہن کے تین بچے ہیں۔ اُس کی پہلے شادی ہوئی تو اُس سے ایک بیٹی پیدا ہوئی، پھر طلاق ہو گئی۔ پھر اس نے دوسری شادی کی، اس سے ایک بیٹا ہوا جو ایک مہینے کا تھا تو اس کا باپ انہیں چھوڑ کر چلا گیا۔ اس کے بعد ہم تقریباً ایک سال کے بعد اسے واپس لے کر آئے۔ اس کے بعد دوسرا بیٹا پیدا ہوا، پھر وہ دوبارہ لڑائی جھگڑا کرکے ان بچوں اور ماں کو چھوڑ کر چلا گیا۔ تقریباً 18 مہینے ہو گئے ہیں مگر اب تک کوئی رابطہ نہیں۔ نہ وہ آیا، نہ بچوں کو دیکھنے آیا، نہ کوئی فون کیا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا 18 مہینے سے ایسے نہ پوچھنے اور نہ آنے سے اس کی طلاق ہو گئی ہے یا نہیں؟
سائل کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو ، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو ، اس طور پر کہ سائل کا بہنوی اپنے بیوی بچوں کو یوں گھر چھوڑ کر چلا گیا ہو تو اُس کا مذکور طرزِ عمل اگرچہ شرعاً جائز نہیں جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہو رہا ہے ، اس لئے اُس پر لازم ہے کہ بیوی بچوں کے حقوقِ واجبہ کی ادائیگی کا اہتمام کرے اور اپنے گھر کو آباد کرنے کی فکر کرے،تاہم اگر اس دوران شوہر نے باقاعدہ طلاق نہ دی ہو تو فقط دوری اختیار کرنے کی وجہ سے سائل کی بہن پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ، بلکہ دونوں کا نکاح برقرار ہے ، چنانچہ سائل کی بہن کو چاہیئے کہ خاندان کے معزز اور با اثر افراد کے ذریعے اپنے شوہر کو سمجھانے کی کوشش کرے ، اور ساتھ اللہ تعالیٰ سے اُسکی ہدایت کی دُعا بھی کرتی رہے ، اُمید ہے کہ اس سے معاملہ حل ہو جائے گا،لیکن اگر ہر ممکن کوشش کے باوجود شوہر اپنے مذکور طرزِ عمل سے باز نہ آئے اور سائل کی بہن کے نان نفقہ کی ادائیگی نہ کرے تو ایسی مجبوری کی صورت میں سائل کی بہن شوہر سے طلاق لے کر علیحدگی بھی اختیار کرسکتی ہے اور اس صورت میں وہ گناہ گار بھی نہ ہوگی۔
کما فی الدر المختار : (و لا بأس به عند الحاجة) للشقاق بعدم الوفاق (و فی رد المحتار تحت ھذا قوله للشقاق) فإن لم يصطلحا جاز الطلاق و الخلع الخ۔ (كتاب الطلاق، ج:3، ص:441، ط: سعید)۔
و فیه أیضاً : كتاب الطلاق (هو) لغة رفع القيد لكن جعلوه في المرأة طلاقا و في غيرها إطلاقا ، فلذا كان أنت مطلقة بالسكون كناية و شرعا (رفع قيد النكاح في الحال) بالبائن (أو المآل) بالرجعي (بلفظ مخصوص) هو ما اشتمل على الطلاق ، فخرج الفسوخ كخيار ، عتق و بلوغ و ردة فإنه فسخ لا طلاق ، و بهذا علم أن عبارة الكنز و الملتقى منقوضة طردا و عكسا بحر الخ۔ (كتاب الطلاق، ج:3، ص:226، ط: سعید)۔