السلام علیکم ! میں نے ایک نومولود بچی کے دونوں کانوں میں اذان و اقامت کے بجائے دونوں طرف اقامت کہی ہے اس میں کوئی عذر تو نہیں؟ اگر ہے تو اس کا کفارہ یا ازالہ بتا دیں جزاک اللہ!
ولادت کے بعد دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہنا سنت عمل ہے، فرض یا واجب نہیں، لہذا اگر معلوم نہ ہونے کی وجہ سے سائل نے اپنے نومولود بچی کے دونوں کانوں میں فقط اقامت کہہ دی تھی، تو اس پر نہ کوئی گناہ ہے، اور نہ کسی قسم کا کوئی کفارہ ہے، لہذا سائل کو پریشانی ہونے کی ضرورت نہیں۔
کما فی مرقاۃ المفاتح: (وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ رضي الله عنه) أَيْ مَوْلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَذَّنَ فِي أُذُنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ» ) بِضَمِّ الذَّالِ وَيُسَكَّنُ (حِينَ وَلَدَتْهُ فَاطِمَةُ) : يَحْتَمِلُ السَّابِعَ وَقَبْلَهُ (بِالصَّلَاةِ) . أَيْ بِأَذَانِهَا وَهُوَ مُتَعَلِّقٌ بِأُذُنٍ، وَالْمَعْنَى أَذَّنَ بِمِثْلِ أَذَانِ الصَّلَاةِ وَهَذَا يَدُلُّ عَلَى سُنِّيَّةِ الْأَذَانِ فِي أُذُنِ الْمَوْلُودِ وَفِي شَرْحِ السُّنَّةِ: رُوِيَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ رضي الله عنه كَانَ يُؤَذِّنُ فِي الْيُمْنَى وَيُقِيمُ فِي الْيُسْرَى إِذَا وُلِدَ الصَّبِيُّ. الخ ( باب العقیقۃ، ج: 7، ص: 2691، ط: دار الفکر)۔
کما فی رد المحتار: (قوله: لا يسن لغيرها) أي من الصلوات وإلا فيندب للمولود الخ (باب الاذان، ج: 1، ص: 385، ط: سعید)۔