السلام علیکم : مفتی صاحب ! مجھے اسٹاک ایکسچینج سے متعلق ایک مسئلہ پوچھنا ہے، اسٹاک مارکیٹ میں دو طرح کے شیئرز ہوتے ہیں، شرعی تقاضوں کے مطابق اور غیر شرعی، ایک کمپنی کے شیئرز جب خریدے، تب وہ shariah compliant تھی، لیکن 6 ماہ بعد اس نے اپنے بزنس کو non shariah میں بدل لیا، اب اس کے شیئرز کی قیمت خرید سے 3 گنا زیادہ ہے، اس کے متعلق رہنمائی فرما دیں کہ بیچ دیں ؟ اور زائد رقم کا کیا مصرف ہوگا؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ کمپنی ہر سال جون کے مہینے میں اپنے ملازمین کو پرافٹ سے ایک بونس دیتی ہے، جسے 5% کہا جاتا ہے، جو ہر سال مختلف ہوتا ہے، چونکہ یہ رقم بینک میں ہوتی ہے اور اس پر interest لگتا ہے، تو 5 ماہ بعد کمپنی اس کا بقایا دیتی ہے سب ملازمین کو، جو کہ 15 سے 20 ہزار ہوتا ہے، اس کے متعلق بھی رہنمائی درکار ہے۔
صورتِ مسئولہ میں مذکورکمپنی جس تاریخ سے نان شریعہ کمپلائنٹ بنی ہواس تاریخ سے اس کمپنی کے شئیرز کی قیمت میں جس قدر اضافہ ہوا ہو تو ان شیئرز کی فروختگی کی صورت میں اس قدرحاصل ہونے والا منافع بلا نیتِ ثواب صدقہ کرنا لازم ہے اور اس اضافی رقم کو اپنے استعمال میں لانے سے احتراز چاہئے۔
جبکہ کمپنی کی طرف سے پانچ فیصد منافع کا رقم ملازمین کے لئے مختص کرنے کے بعد مذکور منافع بنک میں رکھوا کر اس پر نفع لینے میں اگر ملازمین کا کوئی عمل دخل نہ ہو، بلکہ کمپنی مالکان اپنی مرضی سے بنک میں رکھواتے ہوں اور بعد میں ملازمین کو دے دیتے ہوں تو یہ ملازمین کے حق میں شرعاً سود نہیں، بلکہ کمپنی کی طرف سے ملنے والی رقم کا حصہ ہے جس کا لینا ان ملازمین کے لئے شرعاً جائز ہے۔
قال اللّٰہ تعالیٰ: احل اللّٰہ البیع و حرم الربوا (سورۃ : البقرۃ ، آیت : 275)ـ
وفی البحر الرائق : (والأجرة لا تملك بالعقد) (إلی قوله) (بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن ) يعني لا يملك الأجرة إلا بواحد من هذه الأربعة والمراد أنه لا يستحقها المؤجر إلا بذلك (إلی قوله) لكن ليس له بيعها قبل قبضها اھ (کتاب الاجارۃ ، ج: 7 ، ص: 300 ، ط: ماجدیۃ)ـ
وفی تکملۃ فتح الملھم : عن جابر قال: لعن رسول اللہ ﷺ آکل الربا وموکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال :ھم سواء الخ
و فیه ایضاً : قولہ” کاتبہ “ لان کتابۃ الربا اعانۃ علیہ ومن ھنا ظھر أن التوظف فی البنوک الربویۃ لا یجوز، فإن کان عمل الموظف فی البنک ما یعین علی الربا، کالکتابۃ أو الحساب، فذلک حرام لوجھین: الأول : إعانۃ علی المعصیۃ، والثانی: أخذ الأجرۃ من المال الحرام، فإن معظم دخل البنوک حرام مستجلب بالربا، و أما إذا کان العمل لا علاقۃ لہ بالربا فإنہ حرام للوجہ الثانی فحسب، فإذا وجد بنک معظم دخلہ حلال، جاز فیہ التوظف للنوع الثانی من الأعمال،اھ (باب لعن آکل الربا وموکله ، ج: 1 ، ص: 619 ، ط: دارالعلوم کراچی)ـ۔
وفی الدر المختار : الحرمۃ تتعدد مع العلم بہا الا فی حق الوارث وقیدہ فی الظہیرۃ بان لا یعلم ارباب الاموال الخ
وفی رد المحتار: تحت : (قوله الا فی حق الوارث الخ) (الی قوله) والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، و إلا فإن علم عين الحرام فلا يحل له، وتصدق به بنية صاحبه الخ (باب البیع الفاسد ، ج: 5 ، ص: 98 ، ط: سعيد)۔