میرا ڈھائی سال پہلے نکاح ہوا تھا، لڑکی پنجاب میں رہتی ہے، تو کچھ دن پہلے گھر کے مسئلوں کی وجہ سے میں نے ان کو دن کےٹائم فون پر بولا کہ”میں آپ کو طلاق دیتا ہوں ،میری طرف سے فارغ ہو ،جہاں جانا ہے ،جاؤ“ پھر رات میں دوبارہ فون آیا تو وہ مان نہیں رہی تھی کہ ایسا کچھ نہیں، تو میں نےپھر کہا کہ ”طلاق دیتا ہوں، فارغ ہو میری طرف سے “،پھر کاغذات بنائے ہیں، اس پر تین طلاقیں لکھ کر دستخط کر دیا اور انگوٹھا لگا دیا ،نکاح کے بعد دو بار ملا ہوں، تو ان کے ساتھ میں نےتھوڑا پیار کیا تھا ،ہمبستری نہیں کی اوریہ ملاقات گھر میں دیگر افراد کی موجودگی میں ہوئی تھی،جس پر لڑکی کے والدہ نےڈانٹا بھی تھا تو میرے طلاق کا مسئلہ بتائیں۔نوٹ :ہماری رخصتی نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی خلوت صحیحہ ہوئی ہے۔
سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی قسم کی کمی بیشی سےکام نہ لیا گیا ہو،اس طور پر کہ سائل اور اس کی بیوی کے درمیان نکاح کےبعد ایسی تنہائی میسر نہ آئی ہو کہ جس میں وہ دونوں ازدواجی تعلقات قائم کرنا چاہتے تو کر سکتے اور اس کے بعد سائل نے صرف ایک بار فون پر مذکور جملہ”میں آپ کو طلاق دیتا ہوں“ کہا ہو ،تو اس سے اس کی بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوکر دونوں میاں بیوی کا نکاح ختم ہوگیا تھا اور بقیہ طلاقیں محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہو چکی ہیں، چنانچہ اب رجوع نہیں ہوسکتا، اور عورت عدت گزارے بغیر کسی جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے،لیکن اگر وہ دونوں باہمی رضامندی سے ایک ساتھ رہنا چاہیں، تو اس کے لئے نئے حقِ مہر کےتقرر کے ساتھ شرعی گواہان کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کرنا لازم اور ضروری ہوگا، تاہم تجدیدِ نکاح کی صورت میں آئندہ کےلئے سائل کےپاس صرف دو طلاقوں کااختیار باقی رہے گا، لہذا آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط کی جائے۔
کمافی الھندیۃ:إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا قبل الدخول بها وقعن عليها، فإن فرق الطلاق بانت بالأولى ولم تقع الثانية والثالثة، وذلك مثل أن يقول :أنت طالق ،طالق، طالق. وكذا إذا قال أنت طالق واحدة وواحدة، وقعت واحدة .كذا في الهداية الخ(الفصل الرابع فی الطلاق قبل الدخول،ج:1،ص:373،ط:ماجدیۃ)۔
وفي الهداية: فإن فرق الطلاق بانت بالأولى ولم تقع الثانية والثالثة " وذلك مثل أن يقول أنت طالق طالق طالق لأن كل واحدة إيقاع على حدة إذا لم يذكر في آخر كلامه ما يغير صدره حتى يتوقف عليه فتقع الأولى في الحال فتصادفها الثانية وهي مبانة الخ (کتاب الطلاق، ج1 ص233 ط: رحمانیۃ)۔