میرا سوال یہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور سے مدد مانگنا شرک کیوں ہے؟ جبکہ ہم روز مرہ زندگی میں لوگوں سے مدد مانگتے ہیں لوگوں سے مدد مانگنا تو اس وقت شرک ہوگا جب اس شخص کو اللہ سمجھ کر مدد مانگی جائے اور یہ ہرگز نہیں ہوسکتا۔ براہ مہربانی رہنمائی فرمائیں!
کسی زندہ یا مردہ انسان کو مالک، قادر، نافع اور ضار سمجھ کر اس سے مافوق الاسباب مدد مانگنا بلاشبہ ناجائز، حرام اور شرک ہے، کیونکہ یہ شخص اپنے جیسے انسان کو خدائی صفات میں شریک کررہا ہے، جبکہ روز مرہ زندگی میں جو باہمی تعاون ہوتا ہے وہ اس طرح نہیں ہوتا کہ مدد چاہنے والا شخص دوسرے کو مالک و قادر، نافع اور ضار بھی سمجھتا ہو اور اس قسم کا امدادِ باہمی اسباب کے تحت ہوتا ہے۔
ففي تفسیر روح المعاني: الثاني: أن الناس قد أكثروا من دعاء غير الله تعالى من الأولياء الأحياء منهم والأموات وغيرهم، مثل يا سيدي فلان أغثني، وليس ذلك من التوسل المباح في شيء، واللائق بحال المؤمن عدم التفوه بذلك وأن لا يحوم حول حماه، وقد عده أناس من العلماء شركا (ٳلی قولہ) ولا أرى أحدا ممن يقول ذلك إلا وهو يعتقد أن المدعو الحي الغائب أو الميت المغيب يعلم الغيب أو يسمع النداء ويقدر بالذات أو بالغير على جلب الخير ودفع الأذى وإلا لما دعاه ولا فتح فاه، وفي ذلك بلاء من ربكم عظيم، فالحزم التجنب عن ذلك وعدم الطلب إلا من الله تعالى القوي الغني الفعال لما يريد اھ (۴/۱۲۸) ــــــــــــــــــــــــــــــــ واللہ أعلم بالصواب!
عوث اعظم، دستگیر، داتا گنج بخش، غریب نواز اور مشکل کشا جیسے الفاظ کا مفہوم اور استعمال کا حکم
یونیکوڈ شرک و مشرکانہ عقائد 1غیر اللہ کو اوّل وآخر اور ظاہر وباطن سمجھنا- "دجال مارے گا، زندہ کرے گا "کا عقیدہ رکھنا
یونیکوڈ شرک و مشرکانہ عقائد 0حضور نبی اکرمﷺ کے عالم الغیب ہونے کا عقیدہ - نماز جنازہ کے بعد دعا کرنا
یونیکوڈ شرک و مشرکانہ عقائد 0دوران بحث قادیانی سے مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کی دلیل طلب کرنے کا حکم
یونیکوڈ شرک و مشرکانہ عقائد 0