کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ علومِ خمسہ، قیامت کا علم ،بارش برسنے کاعلم ، مادررحم ، کل کیا ہوگا ؟اور کون سا شخص کونسی زمین میں مرے گا؟اگر ان علوم کے متعلق کوئی شخص یہ عقیدہ رکھے کہ یہ علوم اللہ نے اپنے محبوب صلی للہ علیہ و سلم کو کلی یا جزئی عطا فرمائے تھے تو ایسا شخص مسلمان ہے یا کافر اور اس کے بارے میں کیا عقیدہ رکھنا چاہیے؟
مذکور اعتقاد قرآن و حدیث کے صریح نصوص کے خلاف ہے ، اس لیے شخصِ مذکور پر لازم ہے کہ اپنے مذکور اعتقاد سے مکمل احتراز کرے۔
قال تعالیٰ : إن اللہ عندہ علم الساعة و ینزل الغیث ، و یعلم ما فی الأرحام الآية(سورة لقمان: 34)۔
و قال تعالیٰ : و عندہ مفاتیح الغیب لایعلمھا الا ھو۔الآية(سورة الانعام: 59)۔
و فی تفسیر روح المعانی : أخرج احمد ، و الطبرانی ، عن ابن عمر أن النبی -صلی اللہ علیه و سلم- قال" أوتیت مفاتیح کل شئ إلا الخمس ( إن اللہ عندہ علم الساعة الاية)۔(21/111)۔
و فی المشکوة : فی حدیث جبرائیل : عن عمر بن الخطاب قال( إلی قوله) قال فأخبرنی عن الساعة قال ماالمسئول عنھا بأعلم من السائل اھ(11)۔
و فی الشامية : و قیل یکفر لأنه اعتقد أن رسول اللہ -صلی اللہ علیه و سلم- عالم الغیب اھ (3/ 27)۔
عوث اعظم، دستگیر، داتا گنج بخش، غریب نواز اور مشکل کشا جیسے الفاظ کا مفہوم اور استعمال کا حکم
یونیکوڈ شرک و مشرکانہ عقائد 1غیر اللہ کو اوّل وآخر اور ظاہر وباطن سمجھنا- "دجال مارے گا، زندہ کرے گا "کا عقیدہ رکھنا
یونیکوڈ شرک و مشرکانہ عقائد 0حضور نبی اکرمﷺ کے عالم الغیب ہونے کا عقیدہ - نماز جنازہ کے بعد دعا کرنا
یونیکوڈ شرک و مشرکانہ عقائد 0دوران بحث قادیانی سے مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کی دلیل طلب کرنے کا حکم
یونیکوڈ شرک و مشرکانہ عقائد 0