کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام ایسےشخص کے بارےمیں کہ جو آپ ﷺ کے بارے میں ’’عالم ما کان و مایکون کا، اور مختارِ کل و حاضر و ناظر‘‘ کے عقائد رکھتا ہو اور اس کے ساتھ استعانت بالغیر کو جائز سمجھتا ہو ، کیا ایسے شخص کو کافر کہنا درست ہے؟ نیز اس کے پیچھے نمازپڑھنا کیسا ہے؟
اگر کوئی شخص واقعۃً آپ ﷺ کے متعلق مذکور صفات کو بلا کسی تاویلِ صحیح کے اسی طرح مانتا ہو جس طرح کہ مذکور صفات اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت ہیں تو ایسا عقیدہ رکھنے والا شخص مشرک ہونےکی وجہ سے دائرۂ اسلام سے خارج ہے اور اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا قطعاً جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔
قال الله تعالیٰ: ﴿قُلْ لَا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ وَ مَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ﴾ (النمل: 65)۔
و قال الله تعالیٰ: ﴿قُلْ لَا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَ لَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ وَ لَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَ مَا مَسَّنِيَ السُّوءُ﴾ (الأعراف: 188)۔
و قال الله تعالیٰ: ﴿إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَ يُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَ يَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَ مَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا﴾ (لقمان: 34)۔
و قال الله تعالیٰ: ﴿وَ مَنْ أَضَلُّ مِمَّنْ يَدْعُو مِنْ دُونِ اللَّهِ مَنْ لَا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَ هُمْ عَنْ دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ﴾ (الأحقاف: 5)۔
و فی الخانية علی ھامش الفتاوى الهندية: و من تزوج امرأة بشهادة الله و رسوله کان باطلاً (إلی قوله) و بعضھم جعلوا ذلک کفرا لأنه یتعقد أن الرسول یعلم الغیب و ھو کفر(۱/ ۳۳۴)۔
و فی التاتارخانية : و من أتی بلفظة الکفر مع علمه ۔۔۔۔۔۔۔۔ لفظة الکفر عن اعتقاد فقد کفر،و لو لم یعتقد انھا لفظة الکفر، و لکن أتیٰ بھا علی اختیار فقدکفر عند عامة العلماء لا یعذر الجہل۔ (۵/۴۵۸)۔
عوث اعظم، دستگیر، داتا گنج بخش، غریب نواز اور مشکل کشا جیسے الفاظ کا مفہوم اور استعمال کا حکم
یونیکوڈ شرک و مشرکانہ عقائد 1غیر اللہ کو اوّل وآخر اور ظاہر وباطن سمجھنا- "دجال مارے گا، زندہ کرے گا "کا عقیدہ رکھنا
یونیکوڈ شرک و مشرکانہ عقائد 0حضور نبی اکرمﷺ کے عالم الغیب ہونے کا عقیدہ - نماز جنازہ کے بعد دعا کرنا
یونیکوڈ شرک و مشرکانہ عقائد 0دوران بحث قادیانی سے مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کی دلیل طلب کرنے کا حکم
یونیکوڈ شرک و مشرکانہ عقائد 0