(۱) میرا سوال یہ ہے کہ آج میں نے یوٹیوپ پر ایک کلپ دیکھی جس میں ایک اہلِ حدیث عالم نے دیوبندیوں پر اعتراض اٹھائے اور مولانا اشرف علی تھانویؒ کے ’’وحدت الوجود‘‘ کے عقیدے کو کافرانہ اور شرکی کہا ہے۔
(۲) اور شاید گنگوہی صاحبؒ یا کوئی اور بڑے عالم ہیں ہمارے ان کی تفسیر سے یہ بھی مطلب نکالا ہے ان لوگوں نے کہ پیشاب سے کلمہ لکھا جاسکتا ہے (نعوذباللہ) برائے مہربانی اس کی تفصیل مجھے بتائیں، کہ حقیقت میں ہمارے علماؤں کا کیا مطلب تھا جو انہوں نے اپنی کتابوں میں اظہار کیا؟
(۱) ’’وحدت الوجود‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ اس کائنات میں حقیقی اور مکمل وجود صرف ذاتِ باری تعالیٰ کا ہے اس کے سوا ہر وجود بے ثبات، فانی اور نامکمل ہے، لہٰذا جتنی چیزیں ہمیں اس کائنات میں نظر آتی ہیں انہیں اگرچہ وجود حاصل ہے، لیکن اللہ کے وجود کے سامنے اس وجو د کی کوئی حقیقت نہیں اس میں اگر غور کیا جائے تو خود بخود بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ اس عقیدہ کے حاملین اللہ کے وجود میں بھی کسی کو شریک ماننے کے قائل نہیں، مزید تفصیل کیلیے دیکھیں حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی کتاب (شریعت و طریقت: صفحہ ۳۱۰)
(۲) جبکہ مذکور دوسری بات کی کوئی اصل نہیں محض بہتان ہے، جو اہل باطل کا شیوہ ہے کہ وہ حق والوں کو بدنام کرنے کیلیے اس طرز کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب!
عوث اعظم، دستگیر، داتا گنج بخش، غریب نواز اور مشکل کشا جیسے الفاظ کا مفہوم اور استعمال کا حکم
یونیکوڈ شرک و مشرکانہ عقائد 1غیر اللہ کو اوّل وآخر اور ظاہر وباطن سمجھنا- "دجال مارے گا، زندہ کرے گا "کا عقیدہ رکھنا
یونیکوڈ شرک و مشرکانہ عقائد 0حضور نبی اکرمﷺ کے عالم الغیب ہونے کا عقیدہ - نماز جنازہ کے بعد دعا کرنا
یونیکوڈ شرک و مشرکانہ عقائد 0دوران بحث قادیانی سے مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کی دلیل طلب کرنے کا حکم
یونیکوڈ شرک و مشرکانہ عقائد 0