مسئلہ حاضر وناظر، علم غیب، مختارکل اور نوربشر جیسےامور میں عام آدمی کو کیاکرناچاہیے؟ کیاعام آدمی کو ان مسائل میں پڑنا چاہیے؟ یا پھر اسے اللہ پر چھوڑدینا چاہیے، کہ اللہ بہترجانتے ہیں۔
واضح ہو کہ سوال میں ذکردہ امور حاضر وناظر، علم غیب اور نوربشر اصل مفہوم اور معانی کے لحاظ سے اصالۃ اللہ رب العزت کا خاصہ ہے، اور اس پر سب مکاتب فکر کا اتفاق ہے، اور اس درجہ پر ایک عام آدمی کا عقیدہ بھی ہونا چاہیے کیونکہ یہ عین قرآن وسنت کے مطابق ہے، لیکن ایک مکتبہ فکر کا نظریہ یہ بھی ہے، کہ ثانوی (دوسرے) درجے میں یہ صفات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی عطاء کی گئی ہے، جبکہ دیگر حضرات علمائے کرام اس کو بھی غلط مانتے ہیں، جو ایک علمی بحث او ر تاویلات پر مشتمل گفتگو ہے، جبکہ اس بحث میں پڑنا نہ تو عمل کے لیے ضروری ہے، اور نہ ہی اس پر کسی عمل کا بنیاد ہے، اس لیے ان مباحث میں وقت ضائع کرنے اور اختلافات میں پڑنے کے بجائےاپنے اعمال کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
عوث اعظم، دستگیر، داتا گنج بخش، غریب نواز اور مشکل کشا جیسے الفاظ کا مفہوم اور استعمال کا حکم
یونیکوڈ شرک و مشرکانہ عقائد 1غیر اللہ کو اوّل وآخر اور ظاہر وباطن سمجھنا- "دجال مارے گا، زندہ کرے گا "کا عقیدہ رکھنا
یونیکوڈ شرک و مشرکانہ عقائد 0حضور نبی اکرمﷺ کے عالم الغیب ہونے کا عقیدہ - نماز جنازہ کے بعد دعا کرنا
یونیکوڈ شرک و مشرکانہ عقائد 0دوران بحث قادیانی سے مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کی دلیل طلب کرنے کا حکم
یونیکوڈ شرک و مشرکانہ عقائد 0