میزان بینک کے کارڈ کے ذریعے ریسٹؤرنٹ سے ڈسکاؤنٹ حاصل کر سکتے ہیں؟ جبکہ یہ ڈسکاؤنٹ ریسٹورنٹ کی طرف سے نہیں، بلکہ بینک کی طرف سے ہوتاہے۔
ہماری معلومات کے مطابق میزان بینک کے اکثر وبیشتر معاملات مستند مفتیانِ کرام کے زیرِ نگرانی شرعی اصولوں کے مطابق انجام پاتے ہیں، لہذا بینک سے جاری شدہ کارڈ پر ملنے والا ڈسکاؤنٹ اگر کسی شرعی اصول کے تحت دیا جارہی ہو تو اس سے مستفید ہونے کی گنجائش ہوگی۔
کما فی بحوث: وھناک نوع آخر من الجوائز تعطی علی استخدام بطاقات الائتمان والعادۃ فی ھذہ البطاقات أن حاملھا یحصل علی نقاط عند کل استخدام لہ لتلک البطاقۃ عند شراء بضاعۃ، أوخدمۃ، وان ھذا النقاط تدخر فی حسابہ عند مصدر البطاقۃ فکلما بلغت النقاط حداً معینا استحق الحامل البطاقۃ جائزۃ من قبل المصدر وحکم ھذہ الجوائز موقوف علی معرفۃ علاقۃ مصدر البطاقۃ (الی قولہ) وعلی ھذا فان مصدر البطاقۃ لایعدو تجاہ حاصل البطاقۃ من ان یکون محتالا محتالا علیہ أولاً ثم مقرضا لہ عن مایصڈر دینہ الی التاجر فالجائز التی یقدمھا مصدر البطاقۃ الی حاملھا ھی جائزۃ من قبل المقرض الی المستقرض فھو تبرع محض لا قمار فیھا ولا ربا اما القمار فلأن حامل البطاقۃ ل یعلق شیئا من مالہ علی خطر واما الربا فانہ یتحقق باعطاء زیادۃ من المستقرض الی المقرض ولیس فی العکس فلو اعطی مقرض شیئا للمستقرض علاوۃ علی القرض فانہ تبرع محض لا یلزم منہ الربا الخ (أحکام الجوائز، ج2، ص164، ط:مکتبۃ دارالعلوم کراچی)۔