کفریہ کلمہ ادا ہو جانے سے تجدیدِ نکاح کی ضرورت پڑتی ہے؟کیا تجدیدِ نکاح کے لئے بھی کوئی مدت یا عدت ہوتی ہے، جیسے طلاق وغیرہ میں ہوتی ہے؟ اور اگر تاخیر ہو جائے (یعنی فوراً تجدیدِ نکاح نہ کیا جائے) تو اس صورت میں کیا حکم ہے؟
اگر کوئی شادی شدہ شخص اپنے ارادے و اختیار سے کفریہ کلمات کہہ کر دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے،تو اس کا نکاح ختم ہو جاتا ہے،جس کے بعد احساس ہونے پر فوراً توبہ تائب ہو کر تجدیدِ ایمان کرنا لازم اور ضروری ہے،پھر جب شوہر کے تجدیدِ ایمان کے بعداگر بیوی اس کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنے پر رضامند ہو، تو کچھ تاخیر کے بعد بھی تجدیدِ نکاح کیا جاسکتا ہے۔
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1