میں ایک دواساز کمپنی کے لیگل ڈیپارٹمنٹ میں کام کرتی ہوں۔ پاکستان میں عام طور پر یہ کمپنیاں ڈاکٹروں کو اپنی دوائیں لکھوانے کے لئے رشوت دیتی ہیں اور اس پر انحصار کرتی ہیں۔ میں براہِ راست مارکیٹنگ میں شامل نہیں ہوں، لیکن کبھی کبھار قانونی سہارے کے طور پر ان کی مدد کرتی ہوں تاکہ وہ پکڑے نہ جائیں۔ میرا تقریباً سارا کام (99 فیصد) جائز نوعیت کا ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ چونکہ کمپنی کی آمدنی رشوت پر مبنی ہے، تو کیا میری کمائی حلال ہے یا حرام؟
کسی ادارے میں ملازمت کے جائز یا ناجائز ہونے کا مدار اس بات پر ہے کہ وہ ادارہ اپنے ملازم سے کیا کام لیتا ہے اور ادارے کے اغراض و مقاصد کیا ہیں۔ اگر ملازم سے براہِ راست خلافِ شرع کام لیا جاتا ہو یا ادارے کا اصل مقصد ہی ناجائز امور پر مبنی ہو تو ایسی ملازمت جائز نہیں۔ لیکن اگر ملازم کا اصل کام جائز نوعیت کا ہو اور ادارے کے مقاصد بھی فی الاصل غیر شرعی نہ ہوں تو ملازمت فی نفسہٖ جائز ہے۔
صورتِ مسئولہ میں سائلہ کادواساز کمپنی کے لیگل ڈیپارٹمنٹ کاکام اگرجائز نوعیت کاہو، اسے کمپنی کے رشوتی یا ناجائز معاملات کو قانونی سہارا دینے میں مدد دینا نہ پڑتی ہو ، اسی طرح کمپنی کے وہ امور جن میں رشوت کا لین دین ہوتاہے سائلہ کاان سے براہ راست کوئی تعلق نہ ہوتواس صورت میں سائلہ کے لیے مذکورکمپنی میں کام کرنااوراس سے حاصل ہونے والی تنخواہ کواپنے استعمال میں لاناجائز اورحلال ہوگا البتہ اگرسائلہ کوکمپنی کے غیرقانونی کاموں میں مددیناپڑتی ہویاسائلہ کاتعلق براہ راست کمپنی کےان امورسے ہوجن میں رشوت کا لین دین کرناپڑتاہےتواس صورت میں مذکورملازمت جائزنہ ہوگی اوراس سے حاصل ہونے والی تنخواہ بھی حلال نہ ہوگی،اوراگرملازمت کے دوران بیشترکام جائزہومگربعض اوقات ناجائزامورمیں بھی ملوث ہوناپڑتاہوتو تنخواہ کاوہ حصہ جو رشوت اور ناجائز کام کے تعاون کے بدلے میں حاصل ہوا ہو وہ ناجائز ہوگا، اورسائلہ پر اس قدرحصے کو بغیر نیتِ ثواب صدقہ کر دینا لازم ہوگا۔
لہذاسائلہ کوچاہیےکہ وہ حتی الامکان ایسے ناجائز کاموں سے اپنے آپ کو بچائے، اور اگر بار بار ان میں ملوث ہونا پڑے تو بہتریہی ہے کہ کسی متبادل حلال ملازمت کوتلاش کرکے اس ملازمت کوترک کردے۔
کما فی التفسير المظهري»: وَتَعاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ اى على امتثال امر الله تعالى وَالتَّقْوى اى الانتهاء عما نهى عنه كى يتقى نفسه عن عذاب الله وَلا تَعاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوانِ يعنى لا تعاونوا على ارتكاب المنهيات ولا على الظلم لتشفى صدوركم بالانتقام عن النواس بن سمعان الأنصاري قال سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن البر والإثم قال البر حسن الخلق والإثم ما حاك فى نفسك وكرهت ان يطلع عليه الناس» (3/ 19)
و فی تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي» : قال رحمه الله (ولا يجوز على الغناء والنوح والملاهي) لأن المعصية لا يتصور استحقاقها بالعقد فلا يجب عليه الأجر من غير أن يستحق هو على الأجير شيئا إذ المبادلة لا تكون إلا باستحقاق كل واحد منهما على الآخر، ولو استحق عليه للمعصية لكان ذلك مضافا إلى الشارع من حيث إنه شرع عقدا موجبا للمعصية تعالى الله عن ذلك علوا كبيرا ولأن الأجير والمستأجر مشتركان في منفعة ذلك في الدنيا فتكون الإجارة واقعة على عمل هو فيه شريك ذكره في النهاية معزيا إلى الذخيرة،»(5/ 125)
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0