السلام علیکم!میرا سوال یہ ہے کہ کیا اپنے گھر کی تعمیر کے لیے اسلامی بینک سے قرض لینا جائز ہے؟
ہماری معلومات کے مطابق کوئی بھی اسلامی بینک براہ راست کسی کسٹمر کو قرض فراہم نہیں کرتا، بلکہ کسٹمر کو جس چیز کیلئے قرض کی ضرورت ہو تو بینک اجارہ ، شرکت متناقصہ و غیرہ کے تحت اسے وہ چیز فراہم کرتا ہے، لہذا جو غیر سودی بینک مستند مفتیانِ کرام پر مشتمل شریعہ بورڈ کی نگرانی میں اپنے تمام مالی معاملات سر انجام دے رہے ہیں ، ان کے ساتھ گھر کی تعمیر وغیرہ کا معاملہ کرنے کی گنجائش ہے۔
كما قال الله تعالى: ﴿الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ (البقرة: 275)۔
وفی المعاییر الشرعیۃ: المشاركة المتناقصة عبارة عن شركة يتعهد فيها أحد الشركاء بشراء حصة الآخر تدریجیا إلى أن يتملك المشتري المشروع بكامله، ولا بد أن تكون الشركة غير مشترط فيها البيع والشراء، وإنما يتعهد الشريك بذلك بوعد منفصل عن الشركة،وكذلك يقع البيع والشراء بعقد منفصل عن الشركة، ولا يجوز أن يشترط أحدالعقدين في الآخر الخ(الشرکۃ،ص:159،ط:الامتیاز)۔