کیا فرماتے ہیں علماء کرام کہ ریاض احمد گوہر شاہی کون تھے؟ گوہر شاہی کے عقائد کیا ہیں؟ اس عقیدے کے ماننے والوں کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے؟ اس عقیدے کے ماننے والوں سے ملنا جلنا جائز ہے؟ اس عقیدے کے ماننے والوں سے رشتے داری کرنا جائز ہے؟ اس عقیدے کا شخص اگر برادری کا صدر ہو اور فلاحی کام کرتا ہو تو کیا اس کے ساتھ جانی و مالی تعاون کرنا جائز ہے؟ اس عقیدے کے ماننے والوں کے عزیز و اقارب، دوست احباب جانتے ہوں اور پھر بھی تعاون کرتے ہوں تو ان سے بھی رشتہ رکھنا، ملنا جلنا اور کھانا پینا کرنے کے متعلق کیا شرعی حکم ہے ؟
ریاض احمد گوہر شاہی (1941–2003/2001 ) ایک خودساختہ روحانی پیشوا تھا، جس نے "انجمن سرفروشانِ اسلام" (AnjumanSerfaroshan-e-Islam)اور "میسایہ فاؤنڈیشن انٹرنیشنل" (Messiah Foundation International) کی بنیاد رکھی۔ اس نے مہدی، مسیح اور ہندو دھرم کے کالی اوتار ہونے کے دعوے کیے، اور اس کے پیروکار اِن باطل دعووں کو عقیدتاً مانتے ہیں۔ ان کے نزدیک اس کی تصویر چاند، سورج اور سنگِ کعبہ پر ظاہر ہوئی ہے۔ اس نے اسلامی عقائد کو مسخ کر کے ایک باطل و فاسد روحانی فلسفہ گھڑا،ا س کے ان گمراہانہ عقائد ونظریات کو دیکھتے ہوئے نامور علماءكرام او ردینی مدارس نے اس پر مرتد و کافر ، ملحد ، زندیق اور ضالّ و مُضِلّ کا فتویٰ صادر کیاہے۔
چونکہ یہ فرقہ اسلامی عقائد سے منحرف اور گمراہی پر مبنی نظریات کا حامل ہے، اس لیے ان سے قربت اور مؤدّت کا اظہار، بالخصوص ان کے عقائد ونظریات سے اتفاق رکھنا، شرعاً ناجائز و حرام اور ایمان کے لیے شدید خطرے کا باعث ہے۔ لہٰذا ان کے ساتھ نکاح، رشتہ داری یا عقیدتی تعلقات قائم کرنا جائز نہیں ،اس سے ہر صورت اجتناب لازم ہے۔ جبکہ فلاحی یا سماجی تعاون اگر صرف دنیاوی نوعیت کا ہو اور اس سے ان کے باطل نظریات کوتقویت پہنچنے کا تاثر پیدانہ ہو، تو جائز ہے، بصورت دیگراس میں بھی احتیاط ضروری ہے۔
جہاں تک ان عزیز و اقارب اور دوست احباب کا تعلق ہے جو اس فرقے کو جانتے ہوئے بھی تعاون کرتے ہیں، ان کے ساتھ رشتہ رکھنا، ملنا جلنا اورکھانے پینے کے معاملات اسی شرعی حکم کے تابع ہیں جو اوپر بیان کیا گیا ہے۔ البتہ ضرورت کی حد تک اور احسان کے دائرے میں رہتے ہوئے دین کی حفاظت اور شرعی حدود کا خاص خیال رکھتے ہوئے دنیاوی معاملات میں تعلقات رکھنے کی گنجائش ہے۔
کماقال اللہ تعالی فی التنزیل :﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَّخِذُواْ عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمۡ أَوۡلِيَآءَ تُلۡقُونَ إِلَيۡهِم بِٱلۡمَوَدَّةِ وَقَدۡ كَفَرُواْ بِمَا جَآءَكُم مِّنَ ٱلۡحَقِّ يُخۡرِجُونَ ٱلرَّسُولَ وَإِيَّاكُمۡ أَن تُؤۡمِنُواْ بِٱللَّهِ رَبِّكُمۡ إِن كُنتُمۡ خَرَجۡتُمۡ جِهَٰدٗا فِي سَبِيلِي وَٱبۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِيۚ تُسِرُّونَ إِلَيۡهِم بِٱلۡمَوَدَّةِ وَأَنَا۠ أَعۡلَمُ بِمَآ أَخۡفَيۡتُمۡ وَمَآ أَعۡلَنتُمۡۚ وَمَن يَفۡعَلۡهُ مِنكُمۡ فَقَدۡ ضَلَّ سَوَآءَ ٱلسَّبِيلِ﴾ [الممتحنة: 1]
وَتَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡبِرِّ وَٱلتَّقۡوَىٰۖ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ [المائدة: 2]
وفی تفسير ابن كثير : {وتعاونوا على البر والتقوى ولا تعاونوا على الإثم والعدوان} يأمر تعالى عباده المؤمنين بالمعاونة على فعل الخيرات، وهو البر، وترك المنكرات وهو التقوى، وينهاهم عن التناصر على الباطل. والتعاون على المآثم والمحارم. - ت السلامة» (2/ 12)
و فی حاشية ابن عابدين رد المحتار : والكفر لغة: الستر. وشرعا: تكذيبه صلى الله عليه وسلم في شيء مما جاء به من الدين ضرورة وألفاظه تعرف في الفتاوى،(4/ 223)
وفیھاایضا: (قوله تكذيبه صلى الله عليه وسلم إلخ) المراد بالتكذيب عدم التصديق الذي مر أي عدم الإذعان والقبول، لما علم مجيئه به صلى الله عليه وسلم ضرورة، أي علما ضروريا لا يتوقف على نظر واستدلال، وليس المراد التصريح بأنه كاذب في كذا لأن مجرد نسبة الكذب إليه صلى الله عليه وسلم كفر وظاهر كلامه تخصيص الكفر بجحد الضروري فقط»(4/ 223)