جناب! میں نے آپ کا فتویٰ ’’محمد بن عبد الوہاب‘‘ کے بارے میں پڑھاکہ وہ حنبلی مسلک پر تھے ۔آج کل ہمارے ملک میں اہل حدیث یہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ غیر مقلد تھے ۔اور یہ کہ ہم اُس کے مسلک پرہے ہیں اور اُن کی کتاب "کتاب التوحید " کا بار بار حوالہ دیتے ہیں۔ اور بریلوی حضرات اُن کو عبد الوھاب نجدی کہتے ہیں۔کیا وہ صحیح العقیدہ نہیں تھے؟
محمدبن عبد الوہاب رحمہ اللہ کے بارے میں ہماری وہی فتویٰ ہے جو سائل نے پڑھا ہے۔ جبکہ ہمارے ہاں کے اہل حدیث کہلانے والے غیر مقلدین کا ان کو غیر مقلد قرار دینا اور بریلوی حضرات کا ان پر تنقید کرنا تعصب اور جہالت پر مبنی ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظ ہو حضرت مولانا منظور نعمانی صاحب ؒ کی کتاب ''عبدالوہاب نجدی اور اکابرین علماء دیوبند ۔ واللہ أعلم بالصواب!