حجر اسود جسکا بوسہ لینے کے لیے دنیا کے کونے کونے سے امڈ کر آنے والے زائرین عمرہ مکمل کوشش کرتے ہیں کہ اسکو اپنے لب لگا سکیں اس وجہ سے کہ اسکو رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مبارک لب لگائے ہیں اور یہ امت مسلمہ کے لیے قیامت تک کے لیے عبادت بن گیا ہے حالانکہ حضرات حسنین کریمین (رضی اللہ عنھما) جنکو رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کندھوں پر سوار کیا جن کی خاطر سجدہ کو طویل کیا جن کے بارے میں ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ بہت اعلی سواری پر سوار ہیں جس پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سوار بھی اعلی ہیں ان حضرات کے بارے میں علمائے امت یہ درس کیوں نہیں دیتے کہ ان کے مزار پر حاضری دی جائے اگر حضورﷺ کے بوسہ لینے کی وجہ سے حجرا سود قیامت تک کے لیے عبادت ہے تو حضرات حسنین کریمین (رضی اللہ عنھما) کے مزار پر حاضری کا درس کیوں نہیں دیتے؟
واضح ہو کہ دنیا کے کونے کونے سے لوگ بیت اللہ میں حجرا سود کا بوسہ دینے کیلئے نہیں، بلکہ اسلام کے ایک اہم اور عظیم الشان رکن، حج اور عمرے کی ادائیگی کیلئے آتے ہیں اور حجر اسود کا استلام کرنا اور اس کا بوسہ دنیا آپﷺ سے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ثابت ہے اور یہ طواف کی سنتوں میں سے ہے اور حدیث شریف میں ہے کہ آپﷺ نے فرمایا:بلاشبہ اس حجر اسود کے لیے (قیامت کے دن) دو آنکھیں ہوں گی جن سے وہ دیکھ سکے گا اور دو کان ہون گے جن سے وہ سن سکے گا اور زبان ہوگی جس سے وہ بول سکے گا، بس اس شخص کے حق میں وہ گواہی دے گاجس نے حق کے ساتھ اس کا استلام کیا ہوگا، اسی بناء پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ حجرا سود کو بوسہ دیتے وقت فرمایا کرتے تھے کہ میں نے آپ ﷺ کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے، اس لیے میں بھی اس طرح کر رہا ہوں۔
جب کہ کسی بھی قبر کی زیارت کے لیے سفر کرنا یا قبر پر سجدہ کرنا یا بوسہ دینا رسول اللہﷺ سے ثابت نہیں ، بلکہ اس کی ممانعت ثابت ہے، آپﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بھی اسی طرح ثابت ہے، چنانچہ جو قوم انبیاء علیہم السلام کی قبروں کو سجدہ گاہ بنائے ان پر احادیث مبارکہ میں لعنت وارد ہوئی ہے۔
تاہم حضراتِ حسنین رضی اللہ عنہما کے مزارات یا دیگر بزرگان دین کے مزارات پر حاضری کا اتفاق ہو جائے تو یہ باعث برکت وفضیلت ہے، مگر وہاں پر بھی بدعات ، رسومات اور خرافات سے بچنا ازحد ضروری ہے۔
ففی الصحیح لمسلم: (ألا وإن من کان قبلکم کانوا یتخذون قبور أنبیائہم وصالحیہم مساجد ألا فلا تتخذوا القبور مساجد إنی أنہاکم عن ذالک) (۱/ ۲۳۴)
وفی بدائع الصنائع: وروی أنہ قال: واللہ إنی لأعلم أنک حجر لا تضر ولا تنفع، ولولا أنی رأیت رسول اللہﷺ یقبلک ماقبلتک، وفی روایہ أخری قال: لولا أنی رأیت رسول اللہﷺ یستلمک ما استلمتک ثم استلمہ۔۔۔۔ وعن ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما۔ عن رسول اللہﷺ أنہ قال لیبعثن الحجر یوم القیامۃ،ولہ عینان یبصر بہما، وأذنان یسمع بہما، ولسان ینطق بہ فیشہد لمن استلمہ بالحق دار الکتب (۲/ ۱۴۶)
وفی حاشیۃ ابن عابدین: قلت: استفید منہ ندب الزیارہ وإن بعد محلہا وہل تندب الرحلۃ لہا کما اعتید من الرحلۃ إلی زیارۃ خلیل الرحمٰن وأہلہ وأولادہ، وزیارۃ السید البدوی وغیرہ من الأکابر الکرام؟ لم أر من صرح بہ من أئمتنا، ومنع منہ بعض أئمۃ الشافعیۃ إلا لزیارتہ۔ﷺ قیاسا علی منع الرحلۃ لغیر المساجد الثلاثۃ، وردہ الغزالی بوضوح الفرق، فإن ما عدا تلک المساجد الثلاثۃ مستویۃ فی الفضل، فلا فائدۃ فی الرحلۃ إلیہا وأما الأولیاء فإنہم متفاوتون فی القرب من اللہ تعالٰی، ونفع الزائرین بحسب معارفہم وأسرارہم قال ابن حجر فی فتاویہ: ولا تترک لما یحصل عندہا من منکرات ومفاسد کاختلاط الرجال بالنساء وغیر ذلک لأن القربات لا تترک لمثل ذلک، بل علی الإنسان فعلہا وإنکار البدع، بل وإذالتھا إن أمکن (۲/ ۲۴۲) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب