’’عظیمی‘‘ کون ہے؟ اس کے عقائد بیان فرمادیں ۔
’’عظیمی ‘‘سلسلہ عظیمیہ کا مرشد جس کا پورا نام خواجہ شمس الدین ہے، جن کی تصویر کتابوں پر چسپاں بھی ہوتی ہے جو دوگناہوں کا عکاس ہے: (1)تصویر سازی و شہرت پسندی (2)ظاہری شکل وشباہت کا خلاف سنت و شریعت ہونا، نیز ان کی مجالس کی بعض کارگزاریوں سے مخلوط پروگراموں کا انعقاد اور اس پر مسرت کا اظہار اس پر مستزاد ہیں، جبکہ تصویر سازی جو موجب گناہ اور احادیث صحیحہ کی روشنی میں ممنوع اور حرام ہے، اسے باعث برکت و افادیت قرار دینا ایسے امور ہیں جن سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ جمہور اہل سنت والجماعت کے راستے سے ہٹ کر اپنی ذاتی تحقیق پر اعتماد کرنے والا گروہ ہے، انہوں نے متشابہات کو دین کی بنیاد بنایا ہے اور محکمات کو چھوڑا ہے، حالانکہ دین کی بنیاد محکمات پر ہے، نیز اپنے کاموں کو نہ تومشورہ اور استخارہ سے شروع کرتے ہیں اور نہ ہی اہل علم کی تقلید کرتے ہیں، بلکہ قیاس عقلی سے کام چلاتے ہیں، اس سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ مذکور سلسلہ سے وابستہ گروہ گمراہی پر مبنی اور فسق وفجور کا مجموعہ ہے، ایسے لوگوں کی معاونت کرنے، ان کا ساتھ دینے اور ان کی اتباع کرنے سے احتراز واجب ہے ۔
کما فی التفسير المظهرى: وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ أى غير ما هم عليه أجمعون من اعتقاد أو عمل الخ- (1 / 912)
و فی التفسير المظهرى: فى تحت قوله تعالى ﴿ أُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ﴾ ( إلی قولہ) يشتمل الفقهاء والعلماء والمشائخ بل اولى لانهم ورثة الأنبياء وخازنوا احكام اللّه واحكام رسوله- (1 / 828)
و فی صحيح البخاري: عن سعيد بن أبي الحسن قال كنت عند ابن عباس - رضي الله عنهما- إذ أتاه رجل فقال يا أبا عباس إني إنسان إنما معيشتي من صنعة يدي وإني أصنع هذه التصاوير فقال ابن عباس لا أحدثك إلا ما سمعت رسول الله - صلى الله عليه وسلم يقول سمعته يقول من صور صورة فإن الله معذبه حتى ينفخ فيها الروح وليس بنافخ فيها أبدا الخ- (1 / 180) واللہ أعلم بالصواب!