میں شیخ حافظ امین ملتانی کے متعلق فتویٰ چاہتا ہوں کہ وہ فتنہ پیدا کررہے ہیں کہ نہیں؟ ان کے متبعین بہت پُر اعتماد ہیں کہ وہ اس کی وجہ سے سب کچھ دنیا میں حاصل کرلیتے ہیں، میں اس کی اپنی ویب سائٹ بھیج رہا ہوں جس میں ۱۳؍اپریل۲۰۱۰ء کو ہونے والے آٹھ بیانات ہیں، وہ کہتا ہے کہ وہ دل میں عبادت کرتا ہےا ور فخر کرتا ہے کہ وہ قضا نماز حضرت علیؓ کے طریقے پر کرتا ہے، کیا ایسی ہی بات ہے؟ وہ کہتا ہے کہ اللہ اور محمد ایک ہی ہیں، بریلویوں کی جانب سے بہت سی آڈیوز نیٹ پر چڑھائی گئی ہیں، میں ان کے متعلق تفصیل میں نہیں جانا چاہتا، شیخ امین نے اپن یویڈیو میں یہ بھی کہا ہے کہ یہاں شیخ عبد القادرجیلانیؒ سے بڑا ولی بھی ہے جو کہ زندہ ہے اور آپ ﷺ نے اس ولی کے متعلق کہا کہ اس کے پاؤں تمام اولیاء کی گردنوں پر ہیں، براہ مہربانی اس کے بیانات سنیں اور اس کے متعلق حکم شرعی سے آگاہ کریں۔
بیانات اور متنوع قسم کے دعاوی سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص مغلوب الحال یا راہِ حق سے ہٹا ہوا ہے اور اپنے ماتحتوں کو بھی اسی راہ پر لگارہا ہے، اس لیے عام عوام کو اس کے بیانات سننے اور اس کو مقتداء بنانے سے احتراز لازم ہے۔
في مشکاۃ المصابیح: وعن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن الله لا يجمع أمتي أو قال: أمة محمد على ضلالة ويد الله على الجماعة ومن شذ شذ في النار ". . رواه الترمذي اھـ (ص:۳۰)۔ وفيه ایضا: وعن ابن سيرين قال: إن هذا العلم دين فانظروا عمن تأخذون دينكم. رواه مسلم اھـ (ص:۳۷)
وفي الشمائل للترمذي: عن ابن سیرین قال: ہذا الحدیث دین، فانظروا عمن تٲخذون دینکم اھـ (۲/۲۸) واللہ أعلم بالصواب!