ڈاکٹر فرحت ہاشمی کے عقائد کے بارے میں بتائیں کیا ان کے بیانات کیا ان کے سننا ٹھیک ہے ؟
ڈاکٹر فرحت ہاشمی گلاسکو یونیورسٹی کی ‘PHD’یافتہ اورآزاد خیال عورت ہے ۔ جس نے ظاہری طور پر تفسیر قرآن کریم اور دین کو آسان کرنے کے نام سے ایک سالہ کورس ترتیب دیا ہے ۔ جسے ایک سالہ ڈپلومہ کورس ان اسلامک سٹڈیز کہا جاتا ہے ۔ جبکہ درحقیقت وہ اپنی آزاد خیا لی کی بناء پر غلط فہمی، بلکہ صریح غلطی کی شکار ہے ۔ اور اپنے متعلقین کو بھی وہ اسی کی تلقین کرتی ہے ۔
اس کی نظریات میں سے بعض گمراہ کن ہیں ۔جیسے اجماع امت کو ہمیت نہ دینا ، تقلید کو علی الاطلاق شرک قرار دینا اور اس طرح قضاء عمری یعنی فوت شدہ نمازوں کو قضاء کرنے کی ضرورت نہیں ۔ صرف توبہ کافی ہے ۔ اور بعض نظریات جمہور امت کے خلاف ہیں مثلاً تین طلاقوں کو ایک قرار دینا، جبکہ بعض بدعت وغیرہ بھی ہیں ۔جیسے خواتین کو باجماعت نماز پڑھنے کی تلقین وترغیب دینا، صلوٰۃ التسبیح کی نماز کا اہتمام کرنا ۔نیز بعض نظریات فتنہ انگیز ہیں ۔مثلاً فقہاءوعلماء سے لوگوں کو بدظن کرنا ،مدارس دینیہ کی اہمیت ذہنوں سے کم کر کے مختصرکورس کو علم دین کیلیے کافی سمجھنا ،اس طرح جو مسائل کسی مجتہد نے قرآن و حدیث سے اپنے گہری علم کی بناء پر مستنبط کیے ہیں انہیں باطل قرار دے کر قرآن وحدیث کے خلاف قرار دینا اور اس پر اصرار کرنے جیسے نظریات اور اعتقادات کی تبلیغ اور ترویج ''الہدیٰ انٹرنیشنل " کے امتیازی اوصاف ہیں ۔انہیں کی بناء پر امت مسلمہ اور دین متین سے بیزاری اور آزاد خیالی کا رحجان بڑھ رہا ہے جس کی بناء پر مسلمانوں کو ایسے اداروں میں تعلیم دینا یا حاصل کرنا اور ان کی معاونت وغیرہ کرنے سے احتراز لازم ہے ۔اور عام عوام کا اس کا درس سن کر بجائے رہنمائی حاصل ہونے کے ان کی گمراہی کا اندیشہ ہے، اس لیے انہیں اس کا درس سننے سے بھی احتراز چاہیے ۔اور اگر درس کے دوران کسی فقہی مسئلہ پروہ کلام کرے تو اس کے بتائے ہوئے مسئلہ پر عمل کرنے سے پہلے کسی مستند ومعتمد عالم ِ دین ومفتی سے بھی اس مسئلہ کی بابت معلوم کرنا ضروری ہے ۔تاکہ اختلاف وانتشار سے حفاظت ہو سکے۔واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب!