کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ کرام کہ غلام احمد پرویز کون تھا اور کیسا تھا ؟اس کے عقائد و نظریات کس طرح کے تھے؟ نیز جو شخص غلام احمد پرویز کے عقائد و نظریات کا حامل ہو ،ایسے شخص کو امام بنانا یا اس کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات رکھنا شرعاً کیسا ہے ؟ تفصلی جواب عنایت فرمائیں۔
چوہدری غلام احمد پرویز ، بانئیِ "فتنہ پرویزیت" پنجاب کے علاقہ بٹالہ میں پیدا ہوا ، اس کی زندگی کا ایک بڑا حصہ کلرک کی ملازمت میں گزرا، چونکہ موصوف نظریاتی طور پر مغرب کے مفکرین ،سائنسدان اور ان کے افکار و نظریات سے زیادہ متأثر تھے ، حتی کہ مغربی مفکرین ،سائنسدانوں کو ہی ’’إنما یخشی اللہ من عبادہ العلماء‘‘ کا مصداق ٹھہرایا ، قیامِ پاکستان کے بعد صدر ایوب کے دورِ حکومت میں نقل مکانی کرکے پاکستان آیا ، اور اپنے کفریہ عقائد و نظریات کی نشر و اشاعت "تحریک طلوعِ اسلام" کے نام سے شروع کر دی اور اپنے مذموم مقاصد(جو کہ تحریفِ قرآن ،دینِ اسلام کو مسخ کرنا تھا) کےحصول کیلۓ کوشاں ہوئے ، اس کے یہ مذموم مقاصد اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتے تھے ، جب تک کہ سنتِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی احادیثِ مبارکہ سے یکسر انکار نہ کرتا ،چنانچہ چوہدری غلام احمد پرویز نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی احادیثِ مبارکہ کو یہ کہہ کر انکار کیا کہ احادیثِ نبویہ دین نہیں، صرف اور صرف قرآن میں جو چیز حلال ہے وہ حلال ہے، اور جو حرام ہے وہ حرام ہے ، چنانچہ انکارِ حدیث کے بعد قرآن کریم کی متعین اصطلاحات اور عبادات ،عقائد اور احکامات کو تبدیل کرنے کی کو شش کی ، اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم ،ختم نبوت ، اطاعتِ رسول ،نماز روزہ ،حج ،زکوۃ ،نکاح ،طلاق ،حلال وحرام ، وجودِ آدم ، وجودِ ملائکہ ، وجودِ جنات ، وجودِ شیاطین ، جنت و جہنم ،تقدیر ،معراجِ نبوی اور معجزاتِ انبیاء کرام وغیرہ کو انکار سے یا کسی باطل تاویل سے اس کے اصل معنی سے تبدیل کر دیا ، چنانچہ ذیل میں موصوف کے چند باطل عقائد و نظریات جو کہ اسی کی اور دیگر حضرات کی تحریرات و کتب سے ماخوذ ہیں ملاحظہ ہوں:
(1)نماز ’’پوجا پاٹ‘‘ روزہ ’’بھرت‘‘ اور حج ’’یاترا ‘‘ہے۔ (قرآنی فیصلے)۔
(2)احایث دین کا جز نہیں ، احایث عجمی سازش ہے اور جھوٹ ہے جو مسلمانوں کا مذہب ہے۔ (مقام حدیث)۔
(3)جنت و جہنم مقامات نہیں ، بلکہ انسانی ذات کی کیفیات ہیں ۔ (لغات القرآن)۔
(4) آج جو اسلام رائج ہے، وہ زمانہ قبل از قرآن کا مذہب ہو تو ہو ،قرآنی دین کا اس سے کوئی واسطہ نہیں ۔(سلیم کے نام پندرواں خط)۔
(5) رسول کو قطعاً یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی سے اپنی اطاعت کرائے۔ (معارف القرآن4/414)۔
(6) شریعتِ محمدیہ صرف آنحضرت کے عہد مبارک کیلۓ تھی ، نہ کہ ہر زمانہ کیلۓ ، ہر زمانہ کی شریعت وہ ہے جس کو اس عہد کا مرکزِ ملت اور اس کی شوریٰ مرتب کرے ، مرکزِ ملت کو اختیار ہے کہ وہ عبادات ، نماز ،روزہ ، معاملات ، اخلاق ، غرض ہر چیز میں چاہے تو رد و بدل کر دے۔ (قرآنی فیصلے) مزید تفصیل اس فرقہ کے متعلق لکھی ہوئی کتب میں موجود ہے۔
مذکورہ بالا عقائد و نظریات کی وجہ سے عالمِ اسلام کے تمام جید علماء و مفتیانِ کرام نے پرویزی فرقہ کے کفر کا فتویٰ صادر فرمایا ، اور باتفاقِ علماء یہ فرقہ کافر و مرتد ہے، اس لۓ ان کے ساتھ مسلمانوں جیسے تعلقات قائم کرنا ، مثلاً : ان کے ساتھ مناکحت ، ان کا ذبیحہ کھانا وغیرہ، سب ناجائز و حرام ہے ، تمام مسلمانوں کو ان کے ساتھ تعلقات قائم کرنے سے احتراز لازم ہے ، اور جو شخص پرویزی فتنہ میں پڑچکا ہو ، اور پرویزی عقائد و نظریات رکھتا ہو ، اس کا بھی یہی حکم ہے، لہٰذا ایسے شخص کو امام بنانا ،ناجائز اور اس کی اقتداء میں پڑھی گئی تمام نمازوں کا اعادہ واجب ہے۔
فی حاشية السندي على سنن ابن ماجه : وَ يَقُولُ : أَلَا إِنِّي أُوتِيتُ الْكِتَابَ وَ مِثْلَهَ مَعَهُ أَلَا يُوشِكُ رَجُلٌ يَسْتَنِدُ عَلَى أَرِيكَتِهِ يَقُولُ : عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْقُرْآنِ فَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَلَالٍ فَأَحِلُّوهُ وَ مَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوهُ» قَالَ الْفَاضِلُ الطِّيبِيُّ فِي شَرْحِ الْحَدِيثِ السَّابِقِ : وَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ تَوْبِيخٌ وَ تَقْرِيعٌ نَشَأَ مِنْ تَعْظِيمِ عَظِيمٍ عَلَى تَرْكِ السُّنَّةِ وَ الْعَمَلِ بِالْحَدِيثِ اسْتِغْنَاءً عَنْهَا بِالْكِتَابِ هَذَا مَعَ الْكِتَابِ فَكَيْفَ بِمَنْ رَجَّحَ الرَّأْيَ عَلَى الْحَدِيثِ وَ إِذَا سَمِعَ حَدِيثًا مِنَ الْأَحَادِيثِ الصَّحِيحَةِ قَالَ : لَا عَلَيَّ بِأَنْ أَعْمَلَ بِهَا فَإِنَّ لِي مَذْهَبًا أَتَّبِعُهُ انْتَهَى اھ(1/ 4)۔
و فی المفاتيح في شرح المصابيح : و عن أبي رافِعٍ - رضي الله عنه -: أنَّ رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: "لا أُلفِيَنَّ أحدَكُمْ متَّكِئًا على أَريكتِه، يأْتيه الأمرُ مِنْ أمري مما أَمَرتُ بهِ أو نَهَيتُ عنه، فيقول : لا أَدري ، ما وجدنا في كتابِ الله اتَّبعناه". قوله : "لا أدري"؛ يعني : يقول : لا أدري غير القرآن ، و لا أَتَّبِعُ غير القرآن ، "فما وجدنا في القرآن اتبعناه". يعني : لا يجوز لأحد أن يتكبر ويعرض عن أحاديثي ، و لا يقبلها ، و لا يعمل بها ، فمن لم يقبل قولي ، فكأنه لم يقبل القرآن ؛ لأن الله تعالى قال : {وَ مَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَ مَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا} [الحشر: 7]، و قال تعالى أيضًا : {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَ أَطِيعُوا الرَّسُولَ} [النساء: 59]، فطاعة الرسول فرضٌ ، و من عصاهُ فقد عصى الله اھ(1/ 265)۔