کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ یہ جو کراچی میں خاص طور پر اور پاکستان میں عام طور پر اسلام اور اس پر عمل کرنے کا پرچار ادکار ، ماڈل اور ناچ گانے والے کر رہے ہیں اپنی ویب سائٹ بنا کر(Arrehman Arrehman.com) ، کیا وہ صحیح ہے؟ کیونکہ ہمارے بچے ان کی وجہ سے متنفر ہو رہے ہیں، ان لوگوں کی نہ اسلامی داڑھی ہے اور نہ ہی ان کاحلیہ اسلامی ہے اور یہ تمام اقسام کی فحاشی اسلام کے نام پر کر رہے ہیں، سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس کے سربراہ چودھری بابر جامعہ بنوری ٹاؤن کا سرٹیفکیٹ دکھاتے ہیں ، تو کیا ان کو میڈیا کے ساتھ ساتھ بنوری ٹاؤن کی حمایت بھی حاصل ہے یہ لوگ نماز پڑھنے کے قائل نہیں ہیں، بلکہ (پرویز) فرقے کی طرح صرف آیات پر عمل کرنے کو نماز قائم کرنا کہتے ہیں، اس کے علاوہ دوپہر کے وقت تقریباً روزانہ خواتین کو اکیلے میں درس دیتے ہیں تو کیا غیر محارم کا کسی عورت کو اکیلے میں درس دینا جائز ہے؟ اگر نہیں تو پھر اس قسم کی خرافات آپ جیسے دین دار لوگوں کی موجودگی میں اور آپ کی ناک کے نیچے 218/A بلاک 2 میں روزانہ کیونکر ہو جاتی ہیں؟ اور وہ آپ کا یعنی بنوری ٹاؤن کا سر ٹیفکیٹ کیوں دکھاتے ہیں؟ ان کے عمل سے آپ کی ساکھ خراب ہوتی ہے اور معاشرے میں دینی عدم توازن بڑھ رہا ہے اور ہم جیسے بے شمار لوگ جو اپنی خواتین اور بچوں کی طرف سے پریشان ہیں کہ اس قسم کے معاملات سے ان کے گمراہ ہونے کا اندیشہ زیادہ ہے جس کی وجہ سے دیندار لوگ اپنے بچوں کی طرف سے بہت پریشان ہیں اور یہ لوگ مرد حضرات کے لیے گھر میں اعتکاف کا درس دیتے ہیں کیا یہ جائز ہے؟ میں امید کرتا ہوں کہ آپ میرے مسائل سے متعلق جوابات تحریری صورت میں دیں گے۔
سوال میں مذکور سائٹ اور اس کے متعلق جو تفصیل درج ہے اگر یہ واقعہ درست اور حقیقت پر مبنی ہے تو یہ بلاشبہ ایک ناجائز عمل اور اسلام دشمن تحریکوں میں سے ایک ہے، جس کی حوصلہ شکنی تمام مسلمانوں پر لازم ہے، جبکہ سائٹ کے سربراہ "جامعہ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن "سمیت کسی بھی مستند دینی ادارہ کے سند یافتہ یا حمایت یافتہ نہیں، بلکہ اپنے باطل عقائد و نظریات اور انکارِ حدیث کی وجہ سے منکرین حدیث میں سے بھی شمار ہوتے ہیں۔
نیز موصوف آیاتِ قرآنیہ کی تفسیر اور مسائلِ فقہیہ بیان کرنے میں اپنی ذاتی رائے کو (جو شرعاً غلط ہو سکتی ہے) حرفِ آخر سمجھتے ہیں، یہ طرزِ عمل شرعاً درست نہیں، ایسی صورتِ حال میں مسلمانوں پر لازم ہے کہ ایسے لوگوں کے خلاف قانونی کاروائی کریں اور عوام پر لازم ہے کہ ان کی مجالس میں شرکت کرنے، ان کے بیانات اور لیٹچر پڑھنے، سننے اور ان کی تشہیر کرنے سے مکمل احتراز کریں۔