اگر مرد فون پر تین طلاق د یدے اور تحریری نہ ہو ، میسیج لکھ کر نہ دے تو طلاق ہو جاتی ہے؟ اور قانون کی حیثیت میں طلاق مانی جائےگی ؟ جلدی فتوی دیدیں ،کورٹ میں جمع کروانا ہوگا۔
واضح ہو کہ وقوع طلاق کے لئے الفاظ طلاق کا تحریر یا میسج میں لکھ کر دینا لازم و ضروری نہیں بلکہ محض زبان سے الفاظِ طلاق ادا کر دینے سے بھی شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہذا اگر شخص مذکور نے اپنی مدخول بہا بیوی کو صریح الفاظ میں تین طلاقیں دیدی ہوں ،تو اس سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت ِمغلظہ ثابت ہو چکی ہے ،اب ر جوع نہیں ہو سکتا اور بغیر حلالۂ شرعیہ کے دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا ،لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں ورنہ دونوں سخت گناہ کار ہونگے ، جبکہ عورت عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
کما قال اللہ تعالی : فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ (البقرہ :230)۔
و فی الھندیۃ: و أما رکنہ: فقولہ أنت طالق و نحوہ کذا فی الکافی الخ ( کتاب الطلاق، ج: 1، ص: 382، ط: دار الکتب العلمیۃ )۔
و فی الدر المختار :باب الصريح (صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) و لو بالفارسية (كطلقتك وأنت طالق ومطلقة)الخ ( باب الصریح، ج: 3، ص: 248، ط: سعید )۔
و فیہ ایضاً: تحت : ( قولہ و رکنہ لفظ مخصوص ) ھو ما جعل دلالۃ علی معنی الطلاق من صریح أو کنایۃ الخ ( کتاب الطلاق، ج: 3، ص: 230، ط: سعید )۔
و فی الھدایۃ :و إن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا و يدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها "الخ (کتاب الطلاق، ج: 2، ص: 97، ط: البشری )۔
وفی بدائع الصنائع: و اما الطلقات الثلاث فحکمھا الاصلی ھو زوال الملک، وزوال حل المحلیۃ ایضا حتی لایجوز لہ نکاحھا قبل التزوج بزوج آخر، لقولہ عز و جل (فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ سواء طلقھا ثلاثا متفرقا أو جملۃ واحدۃ الخ( فصل فی حکم الطلاق البائن، ج: 3، ص: 187، ط: ماجدیۃ )۔