میرا سوال ہے کہ بعض لوگ داڑھی نہ رکھنے کی مختلف دلیلیں اختیار کرتے ہیں جیسے کچھ لوگ کہتے ہیں دین میں داڑھی ہے ۔ داڑھی میں دین نہیں کہنا کیسا ہے اور اس کے جواب میں ہمیں کیا دلیل اختیار کرنی چاہیے ؟؟ ایسی دلیل یا جواب بتائیں جس سے ان لوگوں کے منہ بند کیے جا سکیں جو سرکار دو جہاں صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کو نہ رکھنے کی بلا وجہ فضول سی دلیلیں پیش کرتے ہیں اور کوئی ایسا شخص جو بغیر داڑھی والا ہو اسے کوئی ایسا شخص امامت کے لیے مجبور کرے جو داڑھی نہ رکھنے کی وجہ یہ بتاتا ہو کہ دین میں داڑھی ہے ۔ داڑھی میں دین نہیں ہے جبکہ ایسا کہنے والا عمر میں بڑا ہو تو کیا اسکی بات مان کر امامت کروالینی چاہیے جبکہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فاسق کی امامت سے منا فرمایا ہے اور داڑھی کٹوانے والا فاسق ہے اور دوسرا یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ اللّٰہ کی نہ فرمانی میں مخلوق کی اطاعت جائز نہیں تو کیا کرنا چاہیے ؟؟
داڑھی تمام انبیائے کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کی سنت اورشعارِاسلام ہے ، ا سی لیے رسول اللہ ﷺ نے اس شعار کو اپنانے کے لیے اپنی امت کوہدایات دی ہیں اوراس کے رکھنے کاحکم دیا ہے،یہ بات متعدد احادیث مبارکہ کی عبارت النص اور عمل صحابہ کے ذریعہ واضح ہوتی ہے کہ ڈاڑھی کی مقدار کم از کم ایک مشت (بالشت) ہے۔جن میں سے چنداحادیث بمع ترجمہ درج کی جاتی ہیں:
عن أبي هریرة رضي اللّٰه عنه قال: قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم: جُزُّوا الشوارب، وأرخوا اللحی، خالِفوا المجوس".(صحیح مسلم)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مونچھیں کاٹو اور داڑھیاں بڑھاؤ، مجوسیوں کی مخالفت کرو۔
عن ابن عمر رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:"خالفوا المشركين، وفروا اللحى، وأحفوا الشوارب"(متفق علیہ)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "مشرکوں کی مخالفت کرو، مونچھیں پست کرو اور ڈاڑھیاں بڑھاؤ۔"
عن أنس أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: خالفوا على المجوس جزوا الشوارب وأوفوا اللحى". (مسند البزار = البحر الزخار ۔13/ 90)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجوسیوں کی مخالفت کرو ،مونچھیں کاٹو اور داڑھیاں بڑھاؤ ۔
مذکورہ بالا احادیث میں صراحت سے داڑھی کے بڑھانے کا حکم دیاگیا ہے، اوریہ بات واضح ہےکہ رسول اللہ ﷺ کے صریح حکم کی خلاف ورزی ناجائزاورحرام ہے۔
صحابہ کرام وتابعین عظام کا عمل (جو سنت کی عملی تفسیر ہے) اسی کے مطابق تھا کہ وہ ایک مشت سے کم ڈارھی کرنے کوجائزنہیں سمجھتے تھے،جن میں بعض سے منقول عمل بطورمثال ذکرکیاجاتاہے:
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ:
عن عبداللہ بن عمرؓ کان إذا حلق رأسه في النسك أخذ من لحيته ما فضل عن القبضة"(سنن ابی داود، کتاب المناسك، حدیث: 4191)
جب حج یا عمرہ کرتے تو اپنی ڈاڑھی کو ایک مشت کے برابر پکڑتے، اور جو زائد ہوتی اسے کاٹ دیتے۔
حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ:
كان إذا حلق رأسه في النسك أخذ من لحيته ما فضل عن القبضة."(مصنف ابن ابی شیبہ: 8/186)
حج یا عمرہ کے وقت ایک مشت سے زائد ڈاڑھی کاٹتے، اس سے کم نہیں کرتے تھے۔
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ:
أنه كان يأخذ من طول لحيته وعرضها."(مصنف ابن ابی شیبہ: 8/186)
اپنی ڈاڑھی کی لمبائی اور چوڑائی میں سے صرف زائد حصہ کاٹتے تھے، نہ کہ مکمل تراشتے یا چھوٹی کرتے۔
امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ (تابعی):
كانوا يكرهون أن تُؤخذ من اللحية إلا ما فضل عن القبضة."(مصنف ابن ابی شیبہ: 8/186)
ان کے نزدیک ایک مشت سے کم کرنا مکروہ تھا۔
امام مالک رحمہ اللہ (فقیہ مدینہ):
"ويأخذ من طولها إذا طالت، ومن عرضها إذا عرضت، ولا بأس بذلك، (الموطأ، للإمام مالك، كتاب الجامع، باب ما جاء في أخذ الشارب، برقم: 1722)
ان کے نزدیک ڈاڑھی کو بالکل منڈوانا یا چھوٹی کرنا جائز نہیں،البتہ صرف ایک مشت سے زائد حصے کو تراشنا جائز ہے۔
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ:
"يحرم حلق اللحية، وكذلك قصّها إذا لم يبق منها ما يسمى لحية."(الاختيارات الفقهية، ص: 75)
یعنی ڈاڑھی مونڈنا اور اتنی کاٹنا کہ ڈاڑھی نہ کہلائے، دونوں حرام ہیں۔
ان تمام دلائل وشواھدسے یہ ثابت ہوتاہےکہ حضور ﷺ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین، اور تابعین،اور تبع تابعین، فقہاء، محدثین، علماء، مشایخ سمیت پوری امت میں ڈارھی کاایک مشت ہونامتوارث رہاہےاورکسی بھی معتبرفقیہ یامحدث سے اس کے خلاف منقول نہیں ۔
اس متعلق کسی شخص کا یہ کہنا کہ "ڈاڑھی کی مقدار شریعت میں متعین نہیں، ایک مشت کی حد نہ عبارۃ النص سے، نہ اشارۃ النص سے، نہ اقتضاء النص سے ثابت ہے" یہ بات شرعی نصوص، صحابہ کرام کے عمل اور اجماعِ امت کے خلاف ہے۔بلاشبہہ یہ مسئلہ اشارۃ النص اور اقتضاء النص کے ساتھ ساتھ عمل متواتر سے بھی ثابت ہے۔اس لیےڈاڑھی کا ایک مشت سے کم کرنا ناجائز و گناہ ہے، اور شریعت میں اس کی کم از کم مقدار "ایک مشت" مقررہے۔ اس سے کم رکھنے کی اجازت دینا عوام کو سنت سے دور کرنے اور دین میں تحریف کے مترادف ہے ،لہذاسائل اوراہل اسلام پرلازم ہے کہ ایسے تمام افرادجومجمع علیہ مسائل میں امت میں تفریق اورانتشارپھیلانے کاباعث بن رہے ہوں ان کے لیکچرزاوربیانات سننے سے احترازکریں۔
فتنہ کے زما نہ میں نیک عمل پر پچاس صحابہ کرام کے بقدر ثواب ملنے پر اعتراض کا جواب
یونیکوڈ سنت رسول ﷺ 0