میڈیکل بلنگ میں نوکری کرنے سے ملنے والی تنحواہ حلال ہے یا حرام ؟ میڈیکل بلنگ امریکا میں ہوتی ہے، اس میں زیادہ تر مریضوں کو حکومتی انشورنس حاصل ہے، اس کے علاوہ نجی انشورنس بھی ہیں، جو مریض کے علاج کے لئے لازمی ہیں، مریض ڈاکٹر کے پاس علاج معالجہ کے لئے جاتا ہے، وہ اسے اپنا انشورنس کارڈ دیتا ہے، جس پر اس کی انشورنس کے متعلقہ تمام معلومات ہوتی ہیں، وہ معلومات اندراج کی جاتی ہیں، اس کے مطابق مریض کا طبی معائنہ ہوتا ہے، طبی معائنہ کرنے کی اجرت وہ انشورنس کمپنی کو کوڈنگ کی زبان میں کرنا ہوتی ہیں اور پھر رقم وصول کرنا ہوتی ہے، اس کا دورانیہ طویل ہوتا ہے، تقریباً ایک سال کا وقت بھی لگ سکتا ہے، جو ڈاکٹر کے لئے خود کرنا کافی مشکل ہے، وہ اس کام کے لئے الگ سے بلنگ کمپنی کے ساتھ معاہدہ کرتا ہے جو اس کو یہ کام کر کے دیتی ہے، اور ڈاکٹر کے پاس رقم وصولی کے بعد ڈاکٹر اس میں سے فیصد کے حساب سے جو معاہدہ میں طے ہوتا ہے ادا کرتی ہے، اب یہ بلنگ کمپنیز پاکستان میں کام کر رہی ہیں، کیا ان میں کام کرنا اور کام کو بڑھانا کیسا ہے؟
واضح ہو کہ انشورنس کمپنیوں اور پالیسی ہولڈر زکے درمیان ہونےوالےمعاہدات عموماً ربا اور قمار پر مشتمل ہونے کی وجہ سے شرعاًناجائز اور حرام ہیں، چنانچہ انشورنس کمپنیوں سے کسی بھی قسم کے معاہدات کرنے سےاحترازلازم ہے،لیکن اس کے باوجود اگرڈاکٹر /ہسپتال انشورنس کمپنی کے ساتھ مفاہمت کے نتیجے میں کسی مریض کا علاج ومعالجہ کرتا ہے ،تو علاج معالجہ کایہ عمل چونکہ بذاتِ خود ایک جائز خدمت ہے، لہٰذا اس کی اجرت انشورنس کمپنی کے ذمہ لازم ہوجاتی ہے، اور ڈاکٹر / ہسپتال کے لیے اپنے اس جائز عمل کی اجرت انشورنس کمپنی سے وصول کرنے کی گنجائش ہے، چونکہ بلنگ کمپنی کا کام دراصل اسی جائز اجرت کی وصولی اور اس کے متعلق ضروری امور کی تحقیق و تکمیل ہے، اس لیے بلنگ کمپنی میں ملازمت اختیار کرے اور اس کے بدلے تنخواہ لینے کی اگرچہ گنجائش ہے،تاہم اس کی آمدن میں کراہیت کاعنصربہرحال پایاجاتاہے ،اس لیے اس قسم کی مشکوک آمدن والی جگہ ملازمت اختیارکرنے کی بجائے کسی غیرمشتبہ ،حلال اورطیب آمدنی والی ملازمت اختیارکرنے کوترجیح دینی چاہیے۔
کما قال اللہ تعالیٰ: (يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُوا لِلَّهِ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ)۔ ( سورۃ البقرۃ : 172 )۔
وفی الدر المختار: (قوله وكل أنواع الكسب إلخ) أي أنواعه المباحة، بخلاف الكسب بالربا والعقود الفاسدة ونحو ذلك (قوله على المذهب الصحيح) قال بعده في التتارخانية.(الی قولہ)أقول: فالمراد من قولهم كل أنواع الكسب في الإباحة سواء أنها بعد أن لم تكن بطريق محظور لا يذم بعضها وإن كان بعضها أفضل من بعض تأمل الخ۔ (ج: 6،ص: 462،ط: سعید)
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0