کیا فرماتے ہیں علماء دین اور مفتیان شرع اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک عورت کا حیض کا آخری دن اٹھارہ جولائی تھا، پھر اسے حمل ٹھہرا دو مہینہ اور ایک ہفتہ ، اس کے بعد حمل کے دوران ہی حیض شروع ہو گیا، پچیس ستمبر کو حمل ختم ہو گیا، پھر یکم اکتوبر کو دوبارہ حیض شروع ہوا، اور پندرہ اکتوبر کو ختم ہو گیا، اور اب انتیس اکتوبر کو پھر سے حیض شروع ہو گیا، یہ بتادیں کہ نماز پڑھنی ہے یا نہیں؟ پانچ اکتوبر کو DNCہوئی۔
دو حیضوں کے درمیان چونکہ کم از کم پندرہ دن پاکی کا گزر ناشر عا ضروری ہے ، لہذا مسئولہ صورت میں پاکی کے صرف چودہ دن گزرنے کے بعد آنے والا خون حیض شمار نہ ہو گا، اور ایسی صورت میں مذکور خاتون کے لیے ان ایام کی نمازیں پڑھنا بھی شرعا لازم ہوں گی۔
كما في الدر المختار: (وأقل الطهر) بين الحيضتين أو النفاس والحيض (خمسة عشر يوما) ولياليها إجماعا (ولا حد لأكثره) (1/ 285)
مانعِ حیض ادویات کے استعمال کےباوجود خون آجائے تو نماز وغیرہ کا حکم
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 1محرم عورت سے(العیاذ باللہ) زنا کا حکم-حیض سے پاکی کے بعد استنجا کا طریقہ
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0زیورات اُتارنے کے بعد دورانِ غسل ناک اور کان کے سوراخوں میں خلال کرنا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0مخصوص ایّام میں اُوڑھے ہوئے دوپٹہ سے قرآن کو پکڑنا جائز ہے یا نہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0ایامِ حیض (عورتوں کی ناپاکی کے مخصوص ایام)میں،معلمہ یا طالبہ کا قرآن پڑھنا پڑھانا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0رمضان میں بچہ کی ولادت کے بعد دس دن خون آئے تو باقی ایّام کے روزے رکھ سکتی ہے یانہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0