میں دبئی کے ایک بینک میں بطور سافٹ ویئر ڈویلپر کام کر رہا ہوں تو کیا میری تنخواہ حلال ہے؟
واضح ہو کہ سودی بینک کو ایسا سافٹ ویئر بناکر دینا جو صرف سودی لکھت پڑھت اور حساب کتاب کیلئے ہی استعمال ہوتا ہو،اس کے علاوہ اس کا جائز استعمال نہ ہوتو شرعاً یہ عمل جائز نہیں ہے، لیکن ایسا سافٹ ویئر جو سودی معاملات کیلئے مختص نہ ہو، بلکہ دوسرے کاموں میں بھی استعمال ہوسکتا ہو، تو ایسا سافٹ ویئر تیار کرنے کی اگرچہ گنجائش ہے، تاہم سودی بینک کے سافٹ ویئر فی الجملہ سودی معاملات کے لیے ہی استعمال ہوتے ہیں اور ملازمین کی تنخواہ بھی عام طور پر سودی رقم سے ہی ادا کی جاتی ہیں ، اس لیے سودی بینکوں میں اس طرح کی ملازمت سے اجتناب چاہیئے۔
کمافي تكملة فتح الملهم: ان التوظف في البنوك الربوية لا يجوز، فإن كان عمل الموظف في البنك ما يعين على الربا كالكتابة أو الحساب، فذالك حرام لوجهين: الأول : إعانة على المعصية، والثاني: اخذ الأجرة من المال الحرام، فإن معظم دخل البنوك حرام مستجلب بالربا، واما اذا كان العمل لا علاقة له بالربا فإنہ حرام للوجه الثاني فحسب، فإذا وجد بنك معظم دخله حلال، جاز فيہ التوظف للنوع الثاني من الأعمال الخ (ج 1، صـــ 619، ط: دار العلوم)۔
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0