مفتی صاحب! السلام علیکم!
عرض یہ ہے کہ ایک لڑکے نے کچھ عرصہ پہلے چوری کی تھی، مگر ہمارے کو اس بارے کوئی علم نہیں تھا۔ اس نے چوری کے روپے لا کر دوسرے آدمی کو قرض کے طور پر دیے ہیں، اس آدمی کو بھی معلوم نہیں تھا کہ یہ پیسے چوری کے ہیں، اب معلوم ہو گیا ہے، اگر روپے ان کو واپس کر دیں تو بات بہت لمبی ہو جائے گی، بلکہ تھانہ تک پہنچ جائیگی اب معلوم یہ کرناہے کہ ان روپوں کا کیا کیا جائے؟ جس آدمی نے چوری کی ہے، روپے اس کو واپس کرنے کا نام بھی نہیں لے سکتے ہیں۔
مقروض کو چاہئیے کہ یہ قرض خواہ کو لوٹا دے اور قرض خواہ (چوری کرنے والے ) پر لازم ہے کہ یہ رقم اصل مالک کے علم میں لائے بغیر یا ہبہ وغیرہ کی تصریح کر کے واپس کر دے، اسے چوری کے متعلق بتانا ضروری نہیں ، بلکہ صرف اُس کا مال اُس تک پہنچانا ضروری ہے۔
ففي الدر المختار: (ويبرأ بردها ولو بغير علم المالك) في البزازية غصب دراهم إنسان من كيسه ثم ردها فيه بلا علمه برئ وكذا لو سلمه إليه بجهة أخرى كهبة اھ (6/ 182)۔
وفي الفتاوى الهندية: والسبيل في المعاصي ردها وذلك هاهنا برد المأخوذ إن تمكن من رده بأن عرف صاحبه وبالتصدق به إن لم يعرفه ليصل إليه نفع ماله إن كان لا يصل إليه عين ماله اھ (5/ 349)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0