کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ:
مروجہ کرنسی کی کیا حیثیت ہے؟ یہ ثمن کے قبیل سے ہے یا نہیں ؟ اگر یہ ثمن کی حیثیت رکھتا ہے،تو پھر ذوات القیم کے قبیل سے ہے یا مثلی ہے ؟
دوسری بات یہ کہ اگر بالفرض آج کے دن میں کسی سے قرض لوں درھم وغیرہ کے اعتبار سے ، اور پھر اس کی مالیت میں تبدیلی ہو کم یا زیادہ ہونے کے اعتبار سے ، تو اب قرض واپس کرنے کی کیا صورت ہوگی ؟
واضح ہو کہ راجح قول کے مطابق مروجہ کرنسی کی حیثیت ثمن عرفی کی ہے ،اور لین دین کرتے وقت اس کی اس ذاتی حیثیت اور مالیت کا اعتبار کیا جاتا ہے ،لہذا قرض کا معاملہ کرتے وقت واپسی اگر اسی کرنسی میں کی جائے جو قرض کے طورپر لی گئی تھی ،تو اس میں مقدار کے اعتبار سے برابری کی رعایت رکھنا لازم اور ضروری ہو گا ،چنانچہ سائل اگر آج کے دن کسی سے کچھ درھم بطور قرض لیتا ہے تو جتنے درھم بطور قرض لئے ہیں اتنے کی ادائیگی سائل پر لازم ہوگی ، اس کی مالیت کے کم یا زیادہ ہونے کا اعتبار نہ ہوگا ۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0