کیا فرماتے ہیں علماءِ دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے علاقے میں عمرہ کمیٹی کے عنوان سے چند مسلمانوں نے ایک کمیٹی (بی سی) شروع کی ہے جس کا مقصد محض ان مسلمانوں کو جو اسباب نہ ہونے کی وجہ سے زیارتِ حرمین سے محروم رہتے ہیں ,عمرہ کروانا ہے ، اس کی ترتیب یہ ہے کہ فی عمرہ دس پاونڈ ماہانہ کے حساب سے جو لوگ اپنے کسی عزیز یا ملنے والے کو عمرہ کروانا چاہیں, اس کمیٹی میں جمع کرتے ہیں ، پھر ہر ماہ قرعہ اندازی ہوتی ہے اور جس کا نام نکلے اس کے کسی عزیز یا ملنے والے کو (جس نے غربت کی وجہ سے پہلے عمرہ نہیں کیا اور اپنی کمزور مالی حالت کی وجہ سے آئندہ اس کے لئے یہ سعادت ملنے کے امکانات بھی معدوم ہوں) عمرہ پر بھیجا جاتا ہے ، کمیٹی کے آغاز پر یہ قرعہ جات نکالے جاچکے ہیں ، جس میں تمام شرکاء کو علم ہے کہ ان کی باری کب آئے گی اور وہ اس پر راضی ہیں ، اس سلسلہ میں کل تقریباً 70 افراد کو اگلے چھ سالوں میں (ہر ماہ ایک فرد کی ترتیب سے) عمرہ پر بھیجا جائے گا ، اس میں کچھ ممبران نے ایک اور کچھ نے زیادہ افراد کو عمرہ پر بھیجنے کیلئے (فی عمرہ 10 پاؤنڈ کے حساب سے) پیسے جمع کرنا شروع کیے ہیں ، کیا یہ معاملہ جائز ہے ؟
صورتِ مسئولہ میں مذکور کمیٹی کے کل ممبران اگر برابر رقم جمع کراتے ہوں، اور تمام شرکاء آخری کمیٹی تک برابر شریک رہتے ہوں ، تو تعاون باہمی کے طریقہ پر مشتمل ہونے کی وجہ سے عمرہ کے لئے ایسی کمیٹی ڈالنا بلا شبہ جائز ہے ، اور اس کمیٹی کی رقم سے خود یا اپنے متعلقین میں سے استطاعت نہ رکھنے والے افراد کے عمرہ کا انتظام کرنا بھی درست اور باعثِ اجر و ثواب ہے، شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں ۔
كما قال الله تعالى : وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ( سورة المائدة، الأية : 2)-
و في فتح القدير : ونحن لا ننفي شرعية القرعة في الجملة بل نثبتها شرعا لتطييب القلوب ودفع الأحقاد والضغائن كما فعل عليه الصلاة والسلام للسفر بنسائه، فإنه لما كان سفره بكل من شاء منهن جائزا إلا أنه ربما يتسارع الضغائن إلى من يخصها من بينهن فكان الإقراع لتطييب قلوبهن، وكذا إقراع القاضي في الأنصباء المستحقة والبداية بتحليف أحد المتحالفين إنما هو لدفع ما ذكرنا من تهمة الميل. والحاصل أنها إنما تستعمل في المواضع التي يجوز تركها فيها لما ذكرنا من المعنى، ومنه استهام زكريا عليه السلام معهم على كفالة مريم عليها السلام كان لذلك، وإلا فهو كان أحق بكفالتها لأن خالتها كانت تحته ( باب عتق أحد العبدين ، ج 4، ص 493، ط : شركة مكتبة و مطبعة مصطفى البابي بمصر)-
و فيه أيضا : ومثاله أن القرعة ليست بحجة، ويجوز استعمالها في تعيين الأنصباء لدفع التهمة عن القاضي فصلحت دافعة لا موجبة ( فصل في الشهادة ، ج 10، ص 513، ط : شركة مكتبة و مطبعة مصطفى البابي بمصر)-
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0