جناب مفتی صاحب میرا نام بینش خان ہے، میں امریکہ میں رہتی ہوں، میر ا سوال آپ سے یہ ہے کہ میرے اوپر بہت قرض ہو چکے ہیں کریڈٹ کارڈز کے ، اور اس پے سود بھی جا رہا ہے ، میرے چار بچے ہیں اور میں واحد انکو سپورٹ کرتی ہوں، میری ملازمت کی تنخواہ زیادہ نہیں ہے، ان حالات میں میرا کریڈٹ کارڈ ادا کرنا مشکل ہو رہا ہے ، میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ میں ایک ساتھ ادا کر سکوں ، میرے اوپر بہت ذمہ داریاں ہیں ، میں اپنی امی کو بھی مالی طور پر پاکستان میں سپورٹ کرتی ہوں، انکا بھی میں ہی سہارا ہوں ، میرے شوہر ایک پیسہ نہیں دیتے خرچے کا ، نہ ہی بچوں کے خرچے کا، اور نہ ہی گھر کے بلز وغیرہ کا، میں سب کچھ خود کرتی ہوں، ان حالات میں آپ بتائیے کہ میں کیا کروں ؟ کیا میں چھوڑ سکتی ہوں کریڈٹ کارڈز کی ادائیگی کرنا ؟ میرے لئے ہر مہینے کارڈ کی ادائیگی کرنا مشکل ہو گیا ہے، مجھ پے گناہ ہو گا ؟ پلیز مجھے جواب ضرور دیں! جزاک اللہ خیراً
صورتِ مسئولہ میں سائلہ کیلئے کریڈٹ کارڈ کا سودی معاملہ کرنا شرعاً درست نہیں تھا ، تاہم جب سائلہ نے کریڈٹ کارڈ بنوا کر اسکے ذریعے بینک سے قرضہ وصول کرلیا ہے تو اب سائلہ کے ذمہ اس بینک کا قرض واپس کرنا شرعاً و قانوناً ہردو اعتبار سے لازم ہے، جبکہ سائلہ اس سود ی معاملہ کا حصہ بننے کی وجہ سے گناہ گار ہوئی ہے، جس پر توبہ و استغفار اور آئندہ اس طرح کے معاملات سےمکمل اجتناب لازم ہے۔
جبکہ سائلہ اپنے شوہر سے نان و نفقہ کی وصولیابی کے لئے خاندان کے با اثر افراد کے ذریعے اس کو سمجھانے کی کوشش کرے، بصورتِ دیگر اس پر سائلہ کو قانونی چارہ جوئی کا بھی حق حاصل ہے، اور شوہر حقوق (نان و نفقہ) کی ادائیگی نہ کرنے کی وجہ سے گناہ گار ہو رہا ہے۔
قال اللہ تعالیٰ : أَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبَا۔الآیۃ [البقرة: 275]-
و فی رد المحتار : (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر ، و عن الخلاصة و في الذخيرة و إن لم يكن النفع مشروطا في القرض۔اھ (5/ 166)-
و فیہ ایضاً : فإذا استقرض مائة دينار من نوع فلا بد أن يوفي بدلها مائة من نوعها الموافق لها في الوزن أو يوفي بدلها وزنا لا عددا و أما بدون ذلك فهو ربا۔اھ (5/ 177)-
و فیہ ایضاً : إن الديون تقضىٰ بأمثالها۔اھ (3/ 789)-
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0