السلام علیکم! محترم مفتی صاحب امید ہے کہ آپ خیریت سے ہونگے، اللہ پاک آپ کے علم میں, عمر میں برکت عطاء فرمائے آمین ثم آمین -
حضرت اپنےکاروباری لین دین اور خریدو فروخت سے متعلق ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں ، سوال سے پہلے کچھ تفصیل عرض کرنا چاہوں گا , وہ یہ کہ مجھ سے میرے ایک موٹر سائیکل کے ڈیلر نے گزشتہ رمضان المبارک کے مہینے میں نقد ادائیگی پر فروخت کے لئے موٹرسائیکلز کی خریداری کی، جو کہ وہ پہلے بھی کرتے رہے ہیں، اور ادائیگی ہمیشہ مال منگوانے سے پہلے یا فوراً بعد آن لائن کر کے , کر دیا کرتے تھے، جسکو میں نقد ادائیگی کے زمرے میں لیتا تھا ، لیکن آخری بار ڈیلر نے موٹرسائیکلز منگوا کر اپنے قبضہ میں لینے کے بعد نقد رقم ادا نہیں کی، یعنی آن لائن رقم ٹرانسفر نہیں کی ، اور عیدالفطر کے بعد ادائیگی کا وعدہ کر لیا اور پھر عید گزرنے کے بعد ادائیگی نہیں کی، اور مزید تاخیر کے لئےسابقہ کاروباری معاملات کی غیر ضروری شکایات،گلے،شکوے اور خامیاں،خرابیاں نکالنی شروع کر دیں، اور بار بار رقم کی ادائیگی کا تقاضا کرنے کےبعد ڈیلر نے مال واپسی کا کہا ، اور میں ڈیڑھ ماہ بعد مال واپسی کے لئے بھی تیار ہو گیا ، لیکن وہ بھی ایک تاخیری حربہ ہی نکلا ،کیونکہ مال واپس نہ ملا اور ڈیلر نے خود زور زبردستی سے تین ماہ میں رقم کی ادائیگی کا وعدہ کیا ، جسکے ثبوت کے طور پر میں نے ایک چیک لکھوا لیا ، تین ماہ مزید گزرنے کے بعد بتایا کہ چونکہ میری رقم باہر سے مال منگوانے میں استعمال ہو گئی ہے ، یعنی کاروبار میں لگ گئی ہے،اور باہر سے مال آنے میں تاخیر ہو گئی ہے، لٰہذا میری رقم مزید ڈیڑھ ماہ بعد ادا کی جائیگی ، ڈیڑھ ماہ مزید گزرنے کے بعد تصدیق کی گئی کہ باہر ملک سے منگوایا گیا مال آ گیا ہے،لٰہذا اب اس مال کی فروخت شروع ہوتے ہی دس دن کے اندر اندر رقم ادا کر دی جائیگی ، میری درج بالا تفصیل کا لبِ لباب یہ ہے کہ میرے ایک ڈیلر نے مجھ سے نقد کے وعدے پر مال منگوا کر میرے مال کی رقم بغیر اجازت اپنے کاروبار میں لگا لی، جسکا میں نے رمضان المبارک میں ہی اندازہ بھی لگا لیا تھا کہ میرے مال کی رقم باہر سے مال منگوانے میں لگا دی گئی ہے، جسکا میں نے ڈیلر سے کہا بھی کہ اگر آپ نے رقم استعمال کرنی ہےتو آپ میرا حصہ ڈال لیں، لیکن ڈیلر خود سے بغیر اجازت رقم استعمال کرتا رہا اور اس سے خود بڑا کاروباری فائدہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا، اور مجھے ایک بڑا کاروباری نقصان پہنچایا ، اور میں اپنی رقم سے اپنا مال بھی نہ منگوا سکا۔
سوال یہ ہے کہ میری رقم شامل کر کے میرے ڈیلر کے منگوائے گئے مال میں سے ملنے والے نفع میں میرا بھی حق ہے یا نہیں؟ جبکہ میں نے اظہار بھی کر دیا تھا ، مجھے نفع و نقصان میں شامل کیا جائے، لیکن چونکہ ڈیلر اپنی ہوشیاری سے رقم حاصل کر چکا تھا، لٰہذا بعد میں نفع نقصان میں شامل نہیں رکھا، جبکہ رقم اپنے کاروبار میں استعمال کے لئے شامل کر لی اور اکیلے ہی سارا نفع سمیٹ لیا، کیا یہ ان کے لئے جائز ہے؟رمضان المبارک میں لیے گئے مال کی رقم جھوٹے سچے وعدوں کے بعد اب اس ماہ ربیع الاول کے آخری ہفتہ میں ملنا شروع ہو گئی ہے، تقریباً چھ سے سات ماہ کسی کی رقم کو بغیر اجازت اپنے کاروبار میں لگانا جائز ہے؟
سوال میں درج کردہ تفصیل کے مطابق سائل کے ڈیلر کا سائل سے نقد ادائیگی پر موٹرسائیکلیں خرید کر بغیر کسی عذر کے , قیمت کی ادائیگی میں جھوٹ اور دھوکہ دہی کا سہارا لیکرٹال مٹول سے کام لینا شرعاً جائز نہیں تھا،جسکی وجہ سے وہ گناہ گار ہواہے ، اس پر لازم ہے کہ اپنے اس عمل پر بصدقِ دل توبہ و استغفار کر کے آئندہ کیلئے معاملات کی صفائی کا اہتمام کرے، تاہم مذکور ڈیلر نے جبتک سائل کو موٹرسائیکللوں کی قیمت ادا نہیں کی تھی، تب تک یہ رقم سائل کی ملکیت نہیں بنی، بلکہ بدستور مذکور ڈیلر کی ملکیت رہی، لہٰذا اگر مذکور ڈیلر نے یہ رقم کسی کا روبار میں لگا کر منافع حاصل کیا ہو تو سائل کو اس سے منافع میں سے حصے کے مطالبے کا حق حاصل نہ ہوگا۔
في مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح : و عن زيد بن أرقم - رضي الله عنه - عن النبي - صلى الله عليه و سلم - قال : " إذا وعد الرجل أخاه و من نيته أن يفي له ، فلم يف و لم يجئ للميعاد ، فلا إثم عليه " رواه أبو داود ، و الترمذي ۔
( عن النبي - صلى الله عليه و سلم – قال : إذا وعد الرجل أخاه و من نيته أن يفي ) :بفتح فكسر و أصله أن يوفي (له) أي : للرجل (فلم يف) أي: بعذر (و لم يجئ للميعاد) أي: لمانع (فلا إثم عليه) . قال الأشرف: هذا دليل على أن النية الصالحة يثاب الرجل عليها و إن لم يقترن معها المنوي و تخلف عنها . اهـ . و مفهومه أن من وعد و ليس من نيته أن يفي ، فعليه الإثم سواء وفى به أو لم يف ، فإنه من أخلاق المنافقين ، و لا تعرض فيه لمن وعد و نيته أن يفي و لم يف بغير عذر ، فلا دليل لما قيل من أنه دل على أن الوفاء بالوعد ليس بواجب ، إذ هو أمر مسكوت عنه على ما حررته ، و سيجيء بسط الكلام على هذا المرام في آخر باب المزاح . (رواه أبو داود و الترمذي) . (7/3059)۔
و فى فيض القدير: (كل قرض جر منفعة) إلى المقرض (فهو ربا) أي في حكم الربا فيكون عقد القرض باطلا فإذا شرط في عقده ما يجلب نفعا إلى المقرض من نحو زيادة قدر أو صفة بطل ۔ (5/28)۔
و فى رد المحتار : (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا اھ (5/166) ۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0