حضرت مفتی صاحب درجِ ذیل مسئلہ کا حل قرآن وسنت کی روشنی میں بتلا کر مشکور فرمائیں۔
ایک شخص ایک (1) کروڑ کی رقم کامقروض ہے قرض واپس کرنے کی کامل نیت ہے لیکن اسباب مہیا نہیں ہو رہے ہیں ، اب مقروض کے پاس پانچ (5) لاکھ کی رقم اضافی جمع ہوجاتی ہے، اور وہ یہ سوچتا ہے کہ قرض تو بہت زیادہ ہے یہ رقم تو کسی گنتی میں نہیں آتی، اور اقرب یہی ہے کہ کاروبار میں بہتری آئیگی ، تو یہ سوچ کر وہ اس رقم کو کاروبار کی ترقی کے لئے استعمال کرلیتا ہے تاکہ آمدنی کے ذرائع بڑھ جائیں، اور لوگوں کی رقم واپس ہونے کا سلسلہ آسان ہوجائے تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ مقروض کو وہ رقم قرض کی ادائیگی میں دے دینی چاہیئے یا کاروبار میں استعمال کرنی چاہیئے ؟ جزاکم اللہ خیراً
اگر قرض خواہوں کی طرف سے فی الحال قرض کی واپسی کا مطالبہ نہ ہو اور نہ ہی مذکور مقروض شخص کا قصد وارادہ قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنے کا ہو بلکہ اس کا مقصد کاروبار کو ترقی دیکر ادائیگئ قرض کے اسباب میں اضافہ کرنا ہو تو ایسی صورت میں اس کا مذکور رقم فی الحال قرض خواہوں کو دینے کے بجائے کاروبار میں لگانا جائز اور درست ہوگا۔
کما فی مرقاۃ المفاتیح: وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يُكَفِّرُ كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا الدَّيْنَ» ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.(7/ 371 رقم الحدیث 3806)۔
و فی الدرالمختار: (القرض) فلا يلزم تأجيله (إلا) في أربع (إذا) كان مجحودا أو حكم مالكي بلزومه بعد ثبوت أصل الدين عنده أو أحاله على آخر فأجله المقرض أو أحاله على مديون مؤجل دينه؛ لأن الحوالة مبرئة والرابع الوصية (أوصى بأن يقرض من ماله ألف درهم فلانا إلى سنة) فيلزم من ثلثه ويسامح فيها نظرا للموصي (أو أوصى بتأجيل قرضه) الذي له(على زيد سنة) فيصح ويلزمه. والحاصل: أن تأجيل الدين على ثلاثة أوجه باطل في بدلي صرف وسلم وصحيح غير لازم في قرض وإقالة وشفيع ودين ميت ولازم فيما عدا ذلك وأقره المصنف وتعقبه في النهر بأن الملحق بالقرض تأجيله باطل. قلت: ومن حيل تأجيل القرض كفالته مؤجلا فيتأخر عن الأصل؛ لأن الدين واحد بحر ونهر فهي خامسة فلتحفظ الخ ( 5/158 فصل في التصرف في المبيع والثمن قبل القبض)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0