ایزی پیسہ قرض دیتا ہے،اور پھر ہر ہفتے سروس کی مد میں ٪5 فیصد کاٹتا رہتا ہے، کیا یہ حلال ہے یا حرام؟
مذکور ایپ(ایزی پیسہ) انتظامیہ چونکہ قرض پر سروسز چارج کے نام سے اضافی رقم وصول کرتی ہے،جو سودی معاملہ ہونے کی وجہ سےشرعاً ناجائز اور حرام ہے،لہٰذا مذکور ایپ کے ذریعے قرض لیناجائز نہیں، جس سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی البنایہ : (و قد «نهى الرسول - عليه السلام - عن قرض جر نفعا» ش : الحديث رواه علي - رضي الله عنه (8 /493)-
و فی رد المحتار : (كلّ قرض جرّ نفعًا حرام) أي إذا كان مشروطًا كما علم مما نقله عن البحر اھ(5/ 166)-
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0