فتوی نمبر : 36427 حقوق العباد میں کوتاہی کی تلافی کیسے ممکن ہوگی؟
معاملات / مالی معاوضات / قرض
حقوق العباد میں کوتاہی کی تلافی کیسے ممکن ہوگی؟
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! جناب مفتی صاحب! زید کے ذمہ مختلف لوگوں کی رقم واجب الاداء ہے، کچھ بندوں سے قرض لی ہے اور کچھ بندوں سے ناجائز طریقوں سے حاصل کی ہے، اب سوال یہ ہے کہ:
(۱) اگر زید کو وہ رقم صحیح طور پر یاد نہیں رہی کہ کتنا قرض فلاں شخص کا ادا کرنا ہے؟ ایسی صورت میں کیا حکم ہے؟
(۲) اگر زید کو یاد ہی نہیں رہا کہ کتنے بندوں کا قرض واجب الاداء ہے تو اس صورت میں کیا حکم ہے؟
(۳) زید نے جن بندوں سے ناجائز طریقوں سے رقم وصول کی ہے اگر ان کو یہ بتائے بغیر کہ آپ کی میرے اوپر کچھ رقم واجب الاداء ہے، اس بندے سے رقم معاف کروانے یعنی بخشوانے کا کہے اور وہ بندہ معاف کردے تو ایسی صورت میں کیا حکم ہے کہ زید یہ رقم ادا کرے گا یا بری الذمہ ہوگا؟
(۴) اگر زید نے کسی بندے کی سونے کی انگوٹھی اس وقت چوری کی تھی جب سونے کی قیمت نہایت کم تھی؟ اب اگر وہ واپسی کرنا چاہے تو کیا سونا ہی واپس کرے گایا سونے کی قیمت بھی ادا کرسکتا ہے؟ اس صورت میں کیا حکم ہے کہ پرانی قیمت ادا کرنی پڑے گی یا موجودہ قیمت؟
(۵) زید غیبت کے معاملہ میں کافی محتاط رہا ہے اور غیبت کو حقوق اللہ میں شمار کرتا ہے؟ اب زید کو پتہ چلا کہ غیبت حقوق العباد میں سے بھی ہے، اب زید کے لئے کیا حکم ہے اس عرصے کے بارے میں کہ جس میں وہ غیبت کو صرف حقوق اللہ میں شمار کرتا رہا آیا وہ صرف اللہ تعالیٰ سے معافی کا طلبگار ہوگا یا بندوں سے بھی معافی کا طلبگار ہوگا؟
(۶) اگر زید بھول رہا ہو کہ کتنے بندوں کی غیبت کی ہے تو ایسی صورت میں کیا حکم ہے کہ زید کتنے بندوں سے معافی مانگے؟
امید ہے تمام سوالوں کا جواب دے کر مشکور فرمائیں گے۔ جزاکم اللہ!
الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً
(۱، ۲) واضح ہو کہ قرض کو واپس کرنا بہرحال لازم ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مذکور شخص پر لازم ہے کہ وہ اپنے قرض خواہوں اور ان کے قرضہ جات کے بارے میں ایک محتاط اندازہ کے مطابق پوری معلومات حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے پھر جتنے لوگوں کا علم ہوجائے کہ اس شخص کے ذمہ ان کی رقوم واجب الاداء ہیں تو ان کے قرض کی رقم معلوم کرنے کیلئے ان کے ساتھ بیٹھ کر حساب و کتاب بھی کرے اور جتنی رقم پر اتفاق ہو اس کی ادائیگی کرے، اور جن قرض خواہوں کا یقینی طور پر پتہ نہ چلے یا پتہ تو چلے مگر ان تک رسائی ممکن نہ ہو اور ان کے ورثاء بھی معلوم نہ ہوں تو ان کی رقم کا اندازہ لگالے اور اس رقم کو ان کی طرف سے صدقہ کرے۔
کما فی رد المحتار: (قولہ کما بسطہ الزیلعی) حیث قال لأنہ کالمغصوب وقال فی النہایۃ: قال بعض مشایخنا: کسب المغنیۃ کالمغصوب لم یحل أخذہ، وعلی ہذا قالوا لو مات الرجل وکسبہ من بیع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوۃ یتورع الورثۃ، ولا یأخذون منہ شیئا وہو أولی بہم ویردونہا علی أربابہا إن عرفوہم، وإلا تصدقوا بہا لأن سبیل الکسب الخبیث التصدق إذا تعذر الرد علی صاحبہ۔ اھـ (ج۶، ص۳۸۵)۔
(۳) اگر وہ معاف کردے تو اس صورت میں مذکور شخص واجب الاداء رقم سے بری الذمہ ہوجائے گا۔
کما فی مجمع الضمانات: لو غصب فأجاز المالک قبضہ بریٔ۔ اھـ (ج۱، ص۳۳۷)۔
(۴) مذکور سونے کی انگوٹھی موجود ہو تو اس کا لوٹنا لازم ہے اور اگر سائل کے پاس انگوٹھی موجود نہ ہو تو چوری کے دن مذکور انگوٹھی کی جو قیمت تھی اتنی رقم اس شخص کو لوٹانا لازم ہوگا۔
کما فی الہدایۃ: قال: فإن لم یقدر علی مثلہ فعلیہ قیمتہ یوم یختصون وہذا عند أبی حنفیۃ وقال أبو یوسف یوم الغصب وقال محمد یوم الإنقطاع۔ اھـ (ج۳، ص۳۷۲)۔
وفی رد المحتار: تحت (قولہ نفذ بیعہ) ہذا إن ضمنہ قیمتہ یوم الغصب قال فی الجامع الفصولین قبیل الخامس والعشرین غصب شیئًا وباعہ فإن ضمنہ المالک قیمتہ یوم الغصب جاز بیعہ لا لو ضمنہ یوم البیع۔ اھـ (ج۶، ص۲۰۴)۔
(۵، ۶) زید نے جن لوگوں کی غیبت کی ہے اگر ان تک بات پہنچنے سے پہلے وہ توبہ کرلیتا ہے تو اس صورت میں وہ اپنے گناہ سے بری الذمہ ہو جائے گا، البتہ اگر ان لوگوں تک بات پہنچ گئی ہو تو اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنے کے ساتھ ساتھ ان لوگوں سے بھی معافی مانگنی لازم ہوگی، جبکہ جن لوگوں کی غیبت کی ہے اگر وہ یاد نہ ہوں تو فقط توبہ واستغفار کرے، اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ اللہ اس سچی توبہ کی برکت سے معاف فرمادے۔
کما فی مرقاۃ المفاتیح: (وعن أنس - ؓ - قال: قال رسول اللہ - ﷺ - إن من کفارۃ الغیبۃ) أی: بعد تحقق التوبۃ (أن تستغفر) أی: أنت أیہا المخاطب خطابا عاما (لمن اغتبتہ، تقول): بدل أو بیان أو حال (اللّٰہم اغفرلنا) أی: إذا کانوا جماعۃ، أو لنا معشر المسلمین عموما (ولہ) أی: لمن اغتبتہ خصوصا، والظاہر أن ہذا إذا لم تصل الغیبۃ إلیہ، وأما إذا وصلت إلیہ فلا بد من الاستحلال بأن یخبر صاحبہا بما قال فیہ ویتحللہا منہ، فإن تعذر ذلک فلیعزم علی أنہ متی وجدہ تحلل منہ، فإذا حللہ سقط عنہ ما وجب علیہ لہ من الحق، فإن عجز عن ذلک کلہ بأن کان صاحب الغیبۃ میتا أو غائبا، فلیستغفر اللہ تعالی، والمرجو من فضلہ وکرمہ أن یرضی خصمہ من إحسانہ، فإنہ جواد کریم رؤوف رحیم، وفی روضۃ العلماء: سألت محمدا فقلت لہ: إذا تاب صاحب الغیبۃ قبل وصولہا إلی المغتاب عنہ ہل تنفعہ توبتہ؟ قال: نعم تنفعہ توبتہ، فإنہ تاب قبل أن یصیر الذنب ذنبا، یعنی ذنبا یتعلق بہ حق العبد۔ (ج۸، ص۶۱۱)۔ واللہ اعلم بالصواب