السلام علیکم ورحمۃ الله و برکاتہ
الحمد للہ ! ہمارے ملک میں علماء ِکرام اور مدارس کی موجودگی میں قرآن و سنت کی روشنی میں ہمیں اپنی زندگی میں درپیش مسائل کی آگاہی ہوتی رہتی ہے ؟ اندریں صورتِ حال قرآن و سنت کی روشنی میں ایک مسئلے کا حل درکار ہے ؟ میرے والد گرامی راجا محمد شیراز کی وفات تین سال قبل ہو گئی تھی ، میرے والد کے ایک کولیگ محمد آصف صاحب نے والد صاحب کی وفات کے 3 سال بعد دعوی کیا ہے کہ میرے والد راجا محمد شیراز نے تقریباً 10 سال قبل اُن سے مبلغ ایک لاکھ بیس ہزار روپیہ قرض لیا تھا ؟ محمد آصف کے پاس نہ تو کوئی تحریر موجود ہے اور نہ ہی کوئی گواہ اس کی بات کی تصدیق کرتا ہے، محمد آصف اس بات پر مصر ہے کہ ہم لوگ ( پسماندگان راجا محمد شیراز) ایک لاکھ بیس ہزار روپے اسے لوٹائیں ، اس صو رتِ حال میں قرآن و سنت کے احکامات کی روشنی میں پسماندگان را جا محمد شیراز کو کیا کرنا چاہئیے ؟
مذکور شخص کے پاس اپنے دعوی کے متعلق اگر شرعی شہادت (دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں) یا کوئی دستاویزی ثبوت نہ ہو ،اور تمام ورثاء اس بات پر قسم بھی اٹھا لیں کہ نہ تو ہمیں اس قرض کے بارے میں معلوم ہے، اور نہ ہی مرحوم نے اس کے متعلق کوئی وصیت کی ہے ،تو محض دعوی کی بنیاد پر مذکور شخص ایک لاکھ بیس ہزار کا مستحق نہ ہو گا، اور نہ آئندہ اسے اس قسم کے مطالبہ کا حق ہوگا، البتہ اگر ورثاء قسم سے انکار کر لیں، تو مذکور شخص کو اپنے قرض کی وصولیابی کا حق ہو گا۔
ففي الهندية: من ادعى دينا في تركة الميت وأقام البينة على ذلك فالقاضي لا يحلف على الاستيفاء (الى قوله) وإن لم تكن للمدعي بينة وأراد استحلاف هذا الوارث يستحلف على العلم عند علمائنا رحمهم الله تعالى بالله ما نعلم أن لهذا على أبيك هذا المال الذي ادعى وهو ألف درهم ولا شيء منه فإن حلف انتهى الأمر وإن نكل يستوفى الدين من نصيبه اھ (۳/407).
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0