السلام علیکم!عرض گذارش ہے کہ ایک شخص کو پیسوں کی ضرورت ہے اور وہ کہتا ہے کہ آپ اپنی یہ چیز بیچ کر مجھے پیسے دے دو( مثلاً چار پائی) اور میں آپکو ایک سال کے بعد یہی چیز لیکر دونگا اگر چہ جتنی مہنگی کیوں نہ ملے اور جب وقت آتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ یہ چیز اب بہت مہنگی مل رہی ہے(چار پائی کی قیمت سے کم) میں آپکو اتنے پیسے دے دیتا ہوں، آپ ان پیسوں میں جو چاہو اپنے لئے لے لو ، تو کیا یہ پیسے جو وہ ابھی دے رہا ہے یہ لینا جائز ہےیا نہیں؟
واضح ہو کہ کسی کو قرض دینے کیلئے اسکے کہنے پر اپنی ذاتی کوئی چیز فروخت کر دینا شرعاً کوئی لازم اور ضروری نہیں، البتہ اگر کوئی شخص اپنی ذاتی کوئی چیز فروخت کر کے حاصل شدہ رقم کسی کو اس شرط پر قرض دے کہ وہ ایک سال بعد قرض خواہ کو وہ فروخت شدہ چیز لیکر دے،تو یہ شرط شرعاً معتبر نہیں، لہٰذا مقروض کے ذمہ قرض خواہ کو فقط اس سے بطورِ قرض لی ہوئی رقم واپس کر دینا لازم اور ضروری ہوگا، اور یہ چونکہ قرض خواہ کی رقم ہے اس لئے قرض خواہ کیلئے یہ رقم لینا بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
کما فی البنایہ : (و قد «نهى الرسول - عليه السلام - عن قرض جر نفعا» : الحديث رواه علي - رضي الله عنه(8/493)۔
و فی رد المحتار : (كلّ قرض جرّ نفعًا حرام) أي إذا كان مشروطًا كما علم مما نقله عن البحر اھ(5/166)۔
و فی فتح القدير : الديون تقضى بأمثالها لا بأعيانها اھ(8/110)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0