السلام علیکم ! 22 نومبر 2023 کو میرے شوہر نے مجھے ایک پیغام بھیجا تھا،” بہت سوچنے اور استدلال کے بعد، میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ تمام متعلقہ لوگوں کے لیے اس رشتے کو چھوڑ دینا ہی بہتر ہے، اس لیے میں اپنی شادی کو ختم کرنا چاہتا ہوں، میں یہ فیصلہ آپ پر چھوڑ دوں گا کہ آیا آپ کوئی حل چاہتے ہیں اور پہلے اس پر نظر ثانی کریں، ورنہ یہ ہماری شادی کو مکمل اور مکمل طور پر تحلیل کرنے کا باعث بنے گا۔میں آپ کی خیر خواہی چاہتا ہوں“اس پیغام کے بعد میں نے جواب دیا کہ وہ مجھے (طلاق کے) کاغذات بھیج دیں، جو انہوں نے نہیں بھیجے ، اس پیغام کے ڈھائی ماہ بعد 3 فروری 2024 کو اس نے گواہوں کے سامنے کہا کہ ”وہ میری طرف سے فارغ ہے “ اور گواہوں سے کہا کہ یہ پیغام میری بیوی کو پہنچادو تو کیا یہ طلاق شمار ہوگی ؟ اگر ہاں تو کتنی طلاق شمار ہوگی ؟اور کیا عدت اس وقت سے شروع ہوگی جب اس نے گواہوں کے سامنے اعلان کیا یا جب میری طرف بیان پہنچا گیا کیونکہ مجھے ایک ہفتہ کے بعد بتایا گیا تھا ؟برائے مہربانی اسلامی اصولوں کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہوکہ " فارغ " کا لفظ عند القرینہ طلاق صریح بائن کے لئے استعمال ہوتا ہے اس لئے مذاکرہ طلاق یا مطالبہ طلاق کے وقت اس سے بلانیت بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائلہ کے شوہر نے مذکوالفاظ " وہ میری طرف سے فارغ ہے " طلاق کی نیت سے یا مذاکرہ طلاق کے وقت کہے ہو ں تو اس سے سائلہ پر ایک طلاق بائن واقع ہوکر میاں بیوی کا نکاح ختم ہوچکا ہے اب رجوع نہیں ہوسکتا اور سائلہ عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے جبکہ عدت وقوع طلاق کے بعد ہی شروع ہوتی ہے اس لئے سائلہ کی عدت وقوع طلاق کے بعد سے شروع ہوچکی تھی اور حمل نہ ہونے کی صورت میں تیسری ماہواری ختم ہونے پر مکمل بھی ہوچکی ہے، تاہم اگر اب دونوں میاں بیوی باہمی رضامندی سے دوبارہ ایک ساتھ رہنے پر رضامند ہوں تو نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ ایجاب و قبول کرکے ایک ساتھ رہ سکتے ہیں ، لیکن آئندہ کے لئے سائلہ کے شوہر کے پاس فقط دو طلاقوں کا اختیار حاصل ہوگا اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں احتیاط لازم ہے ۔
کما فی المبسوط للسرخسی:(قال) ولو قال أنت مني بائن أو بتة أو خلية أو برية فإن لم ينو الطلاق لا يقع الطلاق لأنه تكلم بكلام محتمل (72/6)
وفی الھندیۃ:ومایصلح جواباً وشتماً خلیة ،بریة، بتة،بتلة، بائن حرام ۔۔۔۔ ففی حالة الرضاء لایقع فی الفاظ کلها الا بالنیة (374/1)
وفی الموسوعة الفقهية الكويتية ذهب الحنفية إلى أن العدة تبدأ في الطلاق عقيب الطلاق، وفي الوفاة عقيب الوفاة، لأن سبب وجوب العدة الطلاق أو الوفاة، فيعتبر ابتداؤها من وقت وجود السبب، فإن لم تعلم بالطلاق أو الوفاة حتى مضت مدة العدة فقد انقضت مدتها (326/29)